السلام علیکم ! پوچھنا یہ ہے کہ زیارت کا کیا طریقہ ہے ؟ کیا زیارت کو وسیلہ یا ذریعہ بنا سکتے ہیں ؟
مزارات اولیاء اللہ کی زیارت کرنا اور ان کے وسیلہ سے دعا کرنا بایں طور کہ ’’ اے اللہ اس نیک و صالح اور اپنے برگزیدہ بندہ کے واسطہ سے میری دعا قبول فرما ‘‘ ہر دو امور بلاشبہ جائز اور صحابہ کرام و تابعین کے طرز عمل سے ثابت ہیں، البتہ ان میں سے کسی کو مختار مطلق سمجھ کر وسیلہ بنانا شرک اور دعا میں وسیلے کو لازم سمجھنا یا یہ عقیدہ رکھنا کہ وسیلہ کے بغیر دعا قبول ہی نہیں ہوتی یا نعوذ باللہ یہ سمجھنا کہ وسیلے کے ساتھ دعا مانگنے سے اللہ تعالی اس کی قبولیت پر مجبور ہو جاتے ہیں، شرعاً نا جائز اور حرام ہے، جن سے احتراز لازم ہے۔
۔
ففى مشكاة المصابيح؛ وعن ابن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فإنها تزهد في الدنيا وتذكر الآخرة» . رواه ابن ماجه اھ (1/ 554)
و في صحيح البخاري: عن أنس رضي الله عنه، أن عمر بن الخطاب، كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب فقال: «اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا صلى الله عليه وسلم فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا» (5/ 20)
و في سنن ابن ماجه: عن عثمان بن حنيف، (إلی قوله) ويدعو بهذا الدعاء: «اللهم إني أسألك، وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة، يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى، اللهم فشفعه في» . قال أبو إسحاق: هذا حديث صحيح اھ (1/ 441)