جماعت کی نماز کے بعد اجتماعی دعا جو امام کرتا ہے، وہ کسی حدیث سے وہ ثابت ہے، مفتی محمد رشید (ضرب مؤمن) والے اپنی کتاب”نماز کے بعد دعا“ میں اس کو بدعت کہتے ہیں، وہ ثابت کرتے ہیں کہ چاروں اماموں کے نزدیک یہ عمل بدعت ہے ۔
فرض نمازوں کے بعد امام و مقتدی یا منفرد کا دعا کرنا اور دعا میں ہاتھ اٹھانا احادیثِ نبویہ ﷺ و روایاتِ فقہیہ سے ثابت ہے، جو کہ سنتِ مستحبہ ہے، پس امام اور مقتدی اس سنت پر اگر عمل کر لیں تو ضمناً خود بخود اجتماع ہو جائیگا اور یہ جائز ہے، ہاں! دعا آہستہ مانگنا افضل ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں اس کی ترغیب دی گئی ہے اور اگر امام بآوازِ بلند دعا کرے اور مقتدی اس پر آمین کہے تو تعلیماً یہ بھی جائز ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ فرائض کے بعد نفسِ دعا اور دعا میں ہا تھوں کا اٹھانا، آمین کہنا اور دعا کے ختم پر دنوں ہاتھوں کا چہرے پر پھیرنا، احادیث ِمبارکہ سے ثابت ہے، لہٰذا اس کو برا سمجھنا اور بدعت سیئہ کہنا صحیح نہیں۔
البتہ مروجہ اجتماعی دعا کے امام و مقتدی سب مل کر ہی دعا کرتے ہیں ، ابتداء بھی ایک ساتھ ہوتی ہے اس طور پر کہ امام افتتاحیہ چند کلمات”ألحمد لله الی آخره“ وغیرہ اونچی آواز سے ادا کرتا ہے اور انتہاء بھی ایک ساتھ ہوتی ہے، جس کی بناء پر مقتدی امام کی دعاء کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور امام سے پہلے اپنی دعا ختم نہیں کر سکتے ، اگر پہلے ختم کریں تو لوگوں میں یہ عمل معیوب سمجھا جاتا ہے، بعض مقامات پر تو امام کی جہری دعا کے جواب میں بآوازِ بلند ” آمین “ یا دوسرے جوابی کلمات نہ بولنے والے کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بعض مقامات پر مقتدی کو اپنی نماز سے فارغ ہو کر امام کی دعا کے انتظار میں بیٹھنا پڑتا ہے، یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا شریعت سے دور کا بھی تعلق نہیں اور ”قرونِ ثلاثہ مشہو دلہا بالخیر“ میں اس کا ثبوت نہیں ملتا، اس لئے یہ طریقہ من گھڑت اور بدعت ہے، اس سے احتر از لازم ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امام اور مقتدی کا اجتماع ایک ضمنی چیز ہے، مقصود نہیں، لہٰذا اس کو اصل دعا سے بھی مزید بڑھانے کی کوشش کرنا اور ضروری سمجھنا درست نہیں، بلکہ امام کو بھی اختیار ہے کہ جتنی دیر چاہے دعا مانگے اور مقتدی کو بھی اختیار ہے، اس دعا میں کوئی ایک دوسرے کاتابع نہیں، لہٰذا اگر مقتدی چاہے تو مختصر دعا مانگ کر چلا جائے اور چاہے تو امام کے ساتھ دعا ختم کرے، اگر چاہے تو امام کی دعا سے زیادہ دیر تک تابع نہیں، دعا مانگتا ہے، ہر طرح جائز ہے اور ان میں سے کسی طرح بھی کرے تو فرائض کے بعد کی یہ سنتِ مستحبہ ادا ہو جائے گی۔
کما في سنن الترمذي: عن أبي أمامة قال: قيل: يا رسول الله أي الدعاء أسمع؟ قال: جوف الليل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات اھ (1/188)
وفي التحفة المرغوبة: فى افضلية الدّعاء بعد المكتوبة:- انی قد سئلت عن الدعاء بعد المكتوبة هل هي سنة أم لا؟ وان الدعاء بعد المكتوبة هل الأفضل فيه أن تكون الدعاء قبل السنة المؤكدة في الصلوة بعدها سنة او لا؟ فقلت إن الدعاء بعد المكتوبة سنة مستحبة لا يحسن تركها الّاسيما في حق الامام، وجاز فيه ان يكون قبل السنة ما لم يكن الدعاء طويلة، فكتبت هذه الرسالة وأوردت فيها ما يدل على عدم كراهة الدعاء قبل السنة بل على أنه الأفضل، من احاديث النبوية - صلى الله عليه وسلم –۔ اھ (ص:251)
وفي الفقه الإسلامى: ]المبحث الخامس ـ الأذكار الواردة عقب الصلاة[ يسن ذكر الله والدعاء المأثور عقب الصلاة، إما بعد الفريضة مباشرة إذا لم يكن لها سنة بعدية كصلاة الفجر وصلاة العصر، وإما بعد الانتهاء من السنة البعدية كصلاة الظهر والمغرب والعشاء؛ لأن الاستغفار يعوض نقص الصلاة، والدعاء سبيل الحظوة بالثوا ب والأجر بعد التقرب إلى الله بالصلاة. ويأتي بالأذكار سرا على الترتيب التالي إلا الإمام المريد تعليم الحاضرين فيجهر إلى أن يتعلموا، ويقبل الإمام على الحاضرين، جاعلا يساره إلى المحراب۔ اھ (1/801)
وفي نور الإيضاح وشرحه: ثم بعد الفراغ عن الصلاۃ یدعو الامام لنفسه والمسلمین رافعی أیدیھم حذو الصلوة وبطونها مما يلي الوجه بخشوع وسكون ثم يمسحون بها وجوههم في آخره، قد أجمع العلماء على استحباب الذكر والدعاء بعد الصلوة، وجاءت فيه احاديث كثيرة (النفائس المرغویة)(ص:17)