کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دوست نے کچھ دن پہلے بکھرے موتی کتاب میں جو ذکر ہے وہ روز کرتا تھا، تو اب وہ کہتے ہیں کہ اچانک میری طبیعت خراب ہو گئی ہے، اور اب مجھے نماز اور نیکی کے کاموں کو کرنے کا دل نہیں چاہتا اور وساوس میں مبتلا ہو گیا ہو ں اور سارا دن کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہوں؟
سائل کے دوست کو چاہیئے کہ کسی متبع سنت وعالم دین کے مشورے اور اجازت سے کسی ذکر کو اپنا معمول بنائے، اور فی الحال اس ذکر کو ترک کر دے۔ اور بکثرت تیسرا کلمہ اور ذیل میں لکھی گئی دعا کا اہتمام کرے۔ ان شاء اللہ یہ وساوس ختم ہو جائیں گے۔
{رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ (97) وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ } [المؤمنون: 97، 98]
{إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ } [الأعراف: 54] (مأخوذ اعمالِ قرآن، ص: ۱۵۳)