پہلے وقتوں میں لونڈی کا ذکر آتا ہے اور اس کے ساتھ ہمبستری بھی کرلیا کرتے تھے جب کہ وہ نکاح میں بھی نہ ہوتیں تھیں، اب اس کا کیا حکم ہے؟ یا اس کو بند کردیا گیا ہے؟ مہربانی فرماکر اس کا جواب ضرور دیں۔
باندیوں کے ساتھ بلا نکاح صحبت کرنا شرعاً جائز اور خود نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور اس سے مراد وہ کافر عورت ہے جو شرعی جہاد کے دوران گرفتار ہو اور مسلمان مجاہدین کے درمیان تقسیم ہو، جبکہ آج کے دور میں ایک عالمی معاہدے کے نتیجہ میں عملاً اس کا وجود نہیں اور گھروں میں اپنی معاشی مجبوری کے تحت کام کرنے والی عورتیں چاہے کافر ہوں یا مسلمان، باندیاں نہیں، بلکہ آزاد عورتیں ہیں، ان کو باندی خیال کرنا اور باندیوں جیسا معاملہ کرنا جہالت پر مبنی اور قطعاً حرام حرکت ہے۔
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِين ۔ الآيه (المؤمنون:۶)۔
وفي الفتاوی الشامية: ومن المعلوم في زماننا أن كل من وصلت يده من العسكر إلى شيء يأخذه ولا يعطي خمسه، فينبغي أن يكون العقد واجبا إذا علم أنها مأخوذة من الغنيمة، ولذا قال بعض الشافعية إن وطء السراري اللاتي يجلبن اليوم من الروم والهند والترك حرام اھ (۳/۴۴)۔
وفي تکملة فتح الملھم: نادی الإسلام بأنه لایجوز استرقاق ٲحد ٳلا في جھاد شرعي اھ (۱/۲۶۴)۔
وفیه ایضا: إن أکثر ٲقوام العالم قد أحدثت الیوم معاھدۃ فیما بینھا، وقررت أنه لا تسترق أسیرا من ٲساری الحروب، وٲکثر البلاد الإسلامية من شرکاء ھذہ المعاھدۃ، ولاسیما ٲعضاء ‘‘الإمم المتحدو’’فلا یجوز لمملكة ٳسلامية الیوم ٲن تسترق ٲسیرا مادامت ھذہ المعاھدة باقية اھ (۱/۲۷۲) واللہ اعلم بالصواب!