السلام علیکم، مفتی صاحب! میری شادی جون 2022 میں ہوئی۔ میری بیوی کی پھوپھی اپنے شوہر کے ساتھ میری شادی سے پہلے میرے سسر کے گھر میں رہ رہی تھیں۔ پھر میری شادی کے دو ماہ بعد میرے سسر نے اپنی بہن، یعنی میری بیوی کی پھوپھی کو الگ گھر میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ان کے لیے الگ گھر لیا اور میرے سالے کے نام کر دیا، جبکہ قبضہ اپنی بہن، یعنی میری بیوی کی پھوپھی، کو دے دیا۔
میری بیوی نے مجھے یہ ساری بات بتائی اور کہا کہ میری پھوپھی کے انتقال کے بعد یہ گھر میرے بھائی کو ملے گا۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کے ابو کی ملکیت ہے، صرف آپ کے بھائی کے نام گھر کر دینے سے یہ آپ کے بھائی کا نہیں ہو جائے گا؛ آپ کے بھائی کو قبضہ بھی دینا ہوگا، تب یہ آپ کے بھائی کا ہوگا۔ وہ نہیں مانی اور بولی کہ جب میرے بھائی کے نام کر دیا ہے تو اصولاً میرے بھائی کا ہو گیا ہے۔پھر اگلی صبح میں فیس بک چلا رہا تھا تو مفتی طارق مسعود صاحب کی ایک مختصر ویڈیو سامنے آئی، جس میں وہ بھی یہی بتا رہے تھے کہ جائیداد نام کرنے سے ملکیت منتقل نہیں ہوتی، بلکہ ملکیت منتقل کرنے کے لیے قبضہ دینا ضروری ہے۔ پھر میں نے اپنی بیوی کو یہ ویڈیو سنائی تو وہ بولی: ’’آپ کو کیا کرنا ہے، چپ ہو جاؤ۔‘‘پھر مغرب کے بعد میں نے دوبارہ اس بحث کو چھیڑا تو وہ بولی مجھے چپ ہو جاؤ، مجھے اس موضوع پر بات نہیں کرنی۔‘‘ وہ غصے میں آ گئی تھی۔ جب میں اس موضوع پر بات کر ہی رہا تھا تو میں نے اس سے کہا: ’’میں آپ کو شریعت کا مسئلہ سمجھا رہا ہوں یا بتا رہا ہوں۔‘‘ وہ اس وقت غصے میں تھی اور غصے میں بولی: ’’بھاڑ میں جائے شریعت میں نے اسے چلا کے چپ کرا دیا۔پھر مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اس نے شریعت کا پورا جملہ کہا تھا یا صرف ’’شری‘‘ کہہ کر رک گئی تھی۔ میں وہم میں مبتلا ہو گیا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے ’’پوری شریعت‘‘ تو نہیں کہا تھا؟ وہ بولی: ’’نہیں، میں ’شری‘ پر رک گئی تھی۔‘‘
پھر میں نے بنوری ٹاؤن اور دارالعلوم میں فون کر کے یہ مسئلہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ اگر اس نے پوری ’’شریعت‘‘ کہا ہوتا تو کفر لازم آتا۔ میں نے مفتی طارق مسعود صاحب سے بھی پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ تحریری صورت میں بھی ایک فتویٰ لے لوں، کیونکہ میرا ذہن بار بار اسی طرف جاتا ہے اور میں ڈپریشن میں جانے لگتا ہوں۔میں نے اپنی بیوی سے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح بھی نہیں کروائی، اور تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کے بغیر ہم بستری بھی کی۔ میری ایک بیٹی بھی ہے، جو مارچ 2026 میں پیدا ہوئی۔ کیا میری بیوی پر کفر تو نہیں آیا ہوگا؟
صورت مسئولہ میں سائل کے بار بار مباحثۃ سے زچ ہوکر سائل کہ بیوی نے فقط " بھاڑ میں جائے شری" کے الفاظ کہے ہوں ، شریعت کےلفظ کی مکمل ادائیگی سے پہلے ہی متوجہہ کرنے پر وہ رک گئ ہو ،جس کا وہ خود بھی اقرار کرتی ہو اور اس پر حلف کھانے کو بھی تیار ہو ، تو ایسی صورت میں فقط اس ادھورے جملہ سے کفر لازم نہیں آیا ، اور میاں بیوی کا بٖغیر تجدید ایمان و نکاح کیے ساتھ رہنا بھی درست ہے ، اس لیے سائل کو بلاوجہ شکوک و شبہات میں نہ پڑنا چاہیئے ، مگر آئندہ کے لیے اس طرح کے امور میں بحث و مباحثۃ کرنے سے اجتناب لازم ہے کہ بعد میں پچھتاوے کا سامنا ہو، اور نہ ہی اس طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہوں۔
کما فی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: أما ركنها، فهو إجراء كلمة الكفر على اللسان بعد وجود الإيمان اھ (فصل فی بیان احکام المرتدین ج:7 ص: 134 ناشر: مطبعة شركة المطبوعات العلمية بمصر)
وفی الفتاوی الھندیۃ: من خطر بقلبه ما يوجب الكفر إن تكلم به، وهو كاره لذلك، فذلك محض الإيمان، وإذا عزم على الكفر، ولو بعد مائة سنة يكفر في الحال كذا في الخلاصة (الی قولہ)ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ، ولا يوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط اھ (مطلب فی موجبات الکفر ج:2 ص: 283 ناشر:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1