کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص غصہ کی حالت میں انتہائی غلیظ اور شرکیہ الفاظ منہ سے نکالتا ہے، جس میں (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ کو اپنا بیٹا کہتا ہے (جو الفاظ منہ سے کہے وہ انتہائی غلیظ تھے، جس میں (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی ماں کے ساتھ زنا کے الفاظ بکتا ہے، اس لیے یہاں ذکر نہیں کیے) مذکورہ شخص شادی شدہ حافظِ قرآن بھی ہے، لیکن اس مسئلہ سے واقف نہیں کہ اس سے نکاح ٹوٹتا ہے اور ایمان ختم ہو جاتا ہے، اپنے کیے نادم ہے، تقریباً ڈیڑھ سال بعد اسے مسئلہ کا علم ہوتا ہے اور لاعلمی کے زمانے میں اس کا ایک بیٹا ہوتا ہے۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح لازم ہے؟ نیز تجدیدِ ایمان اور نکاح اور توبہ کا طریقہ کیا ہے؟
۱۔ کیا اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی یا کہ طلاق دینی پڑے گی؟ ایسی عورت کےلیے کوئی عدّت ہے؟
۲ ۔ تجدیدِ نکاح کے لیے عورت کی رضامندی ضروری ہے اور کیا دوبارہ نکاح کےلیے نیا مہر مقرر ہوگا اور پہلے مہر کا کیا حکم ہے جو ادا کیا ہے؟ اگر نیا مہر ضروری ہے اور عورت اپنی مرضی سے معاف کرے تو یہ درست ہے؟
۳ ۔ لاعلمی کے زمانے میں جو صحبت وغیرہ کی ہے اور اس سے جو بچہ پیدا ہوا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
۴۔ کیا مذکورہ شخص اپنا نکاح خود پڑھا سکتا ہے؟ کیا بغیر گواہ اور وکیل کے نکاح درست ہوگا ؟ نیز لڑکے کا باپ اپنی بہو کی وکالت کر سکتا ہے؟ پریشانی کی بناء پر اتنی تفصیل لکھ رہا ہوں ،براہِ کرم مذکورہ مسئلہ کا واضح اور مفصل جواب تحریر فرما کر اس گناہ گار کی دنیا و آخرت کی تباہی سے بچنے میں راہنمائی فرمائیں۔
مذکورہ الفاظِ قبیحہ کی وجہ سے شخصِ مذکور کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ،اس پر لازم ہے کہ فوراً ندامت کے ساتھ بصدقِ دل اپنی اس قبیح حرکت پر توبہ و استغفار کرے، آئندہ کےلیے اس قسم کے قبیح الفاظ زبان پر لانے سے بھی احتراز کرے اور تجدیدِ ایمان و نکاح بھی کرے۔
اب اگر عورت نے اپنا پہلا حق مہر اپنی مرضی اور خوشی سے بلاکسی جبر واکراہ کے معاف کردیا ہو تو یہ شرعاً بھی معاف ہو چکا ہے ورنہ شوہر کے ذمہ اس کی ادائیگی لازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ اس دوران میاں بیوی والے تعلقات رکھنے کی وجہ سے اگرچہ دونوں بہت سخت گناہ گار ہوئے ہیں، مگر پیدا ہونے والا بچہ ثابت النسب شمار ہوگا۔
البتہ اگر یہ دونوں باہمی مرضی و خوشی سے تجدید نکاح پر آمادہ ہوں تو کم از کم دو عاقل و بالغ مردوں کی گواہی کی موجودگی میں حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ عقد نکاح کیا جا سکتا ہے۔
ففی الدر المختار: وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح و أولاده أولاد زنا، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح اھ (4/ 246)۔
و فی البزازیة: إذا وصف اللہ تعالیٰ بما لا یلیق به، أوسخر اسما من اسمائه تعالیٰ أو بأمر من أوامره (إلی قوله) یکفر اھ (۶/۳۲۳)
و فی الفتاوى الهندية: للمرأة أن تهب مالها لزوجها من صداق دخل بها زوجها أو لم يدخل وليس لأحد من أوليائها أب ولا غيره الاعتراض عليها، كذا في شرح الطحاوي. (1/ 316)۔
و فی حاشية ابن عابدين: ويجدد بينهما النكاح إن رضيت زوجته بالعود إليه وإلا فلا تجبر، والمولود بينهما قبل تجديد النكاح بالوطء بعد الردة يثبت نسبه منه لكن يكون زنا اهـ. (4/ 247)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1