السلام علیکم! مفتی صاحب! ایک دن میں اپنے دوست کو میسج کر رہا تھا، کہ آخر میں اس نے کہا Thanks (شکریہ)، میں نے جواب میں لکھا کہ Thanks نہیں، ’’جزاک اللہ‘‘ ہوتاہے، اس نے کہا ’’لمبا ہے یار‘‘ میرے ذہن میں فوراً شرمگاہ کا تصور آگیا، مجھے پتا تھا کہ اس نے کس کے بارے میں کہا، لیکن مجھ سے یہ نکل گیا کہ ’’کیا لمبا ہے ہنسی بھی آئی‘‘ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بعد میں بڑی ٹینشن ہوئی، شادی شدہ ہوں، سوال کا جواب چاہتاہوں۔
بے اختیار ذہن میں ایسا آجانا موجبِ کفر اور گناہ نہیں، مگر اس قسم کے تصوّرات یا الفاظ قصداً استعمال کرنے سے احتراز چاہیے۔
وفی مرقاة المفاتیح: فالصواب ما قاله الطيبي من أن الوسوسة ضرورية واختيارية فالضرورية ما يجري في الصدور من الخواطر ابتداء ولا يقدر الإنسان على دفعه فهو معفو عن جميع الأمم والإختيارية هي التي تجري في القلب وتستمر وهو يقصد ويعمل به ويتلذذ منه كما يجري في قلبه حب امرأة ويدوم عليه ويقصد الوصول إليها وما أشبه ذلك من المعاصي فهذا النوع عفا الله عن هذه الأمة خاصة تعظيما وتكريما لنبينا عليه الصلاة والسلام وأمته إليه وينظر قوله تعالى ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا البقرة وأما العقائد الفاسدة ومساوىء الأخلاق وما ينضم إلى ذلك فإنها بمعزل عن الدخول في جملة ما وسوست به الصدور ا ه وهو كلام حسن ولهذا قيده النبي بقوله ما لم تعمل أو تتكلم إشارة إلى أن وسوسة الأعمال والأقوال معفوة قبل ارتكابها وأما الوسوسة التي لا تعلق لها بالعمل والكلام من الأخلاق والعقائد فهي ذنوب بالإستقرار اھ (1/317)۔
وفي الفتاوی التاتارخانية: ثم ٳن کا نت نية القائل الوجه الذي یمنع التکفیر فھو مسلم اھ (۵/۴۵۸) واللہ أعلم بالصواب!
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1