کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) کیا رسولِ خدا ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو معراج میں دیکھا تھا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔(۲) ایک فرقۂ مہدی ہے جو امام سید محمد جونپوری کو امام مہدی مانتے ہیں کیا وہ حلقۂ اسلام میں ہیں؟ کیا ان کے پیچھے نماز جائز ہے؟ (۳) سجدہ سہو ادا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ دو فرقۂ حنفی میں شاید نہیں یا کمزور طریقہ ہے۔(۴) اگر ۲۲ سالہ مسلمان گزشتہ ۶ سال کی اکثر نمازیں ضائع یا مِس کردے تو کیسے ٹھیک کرسکتا ہے؟
(۱) یہ مسئلہ اگرچہ امت کے درمیان مختلف فیہ ہے تاہم جمہور علماء و مشائخ کی رائے یہی ہے کہ اس رات میں آنجناب ﷺ دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوئے۔
(۲) مذکورہ فرقہ اپنے عقائدِ کفریہ اور ارکانِ اسلام نماز، روزہ، وغیرہ سے انکار کی بناء پر دائرۂ اسلام سے خارج ہے لہٰذا مذکورہ فرقہ سے متعلق امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں جس سے احتراز واجب ہے۔
(۳) اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رِہ جائے یا فرض و واجب میں تاخیر ہوجائے تو احناف کے ہاں نمازی پر نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرنا واجب ہوتا ہے جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ قعدۂ اخیرہ میں تشہد پڑھنے کے بعد دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کئے جائیں اور پھر از سر نو تشہد، احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں بہتر اور احناف رحمہم اللہ کے یہاں رائج ہے۔
(۴) صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کو چاہئے کہ چھ سال کی نمازوں کا حساب لگا کر جلد سے جلد اس کی ادائیگی کا اہتمام کرے اور نیت میں ہر نماز کی تعیین بھی کرے اس طور پر کہ میری زندگی میں فلاں وقت کی پہلی جو نماز رِہ گئی ہے اس کی قضاء کرتا ہوں اور ہر نماز کے بعد اپنی کوتاہی پر توبہ واستغفار بھی کرتا رہے، امید ہے کہ اس طرح کرنے سے اللہ تعالیٰ قیامت میں مواخذہ بھی نہیں فرمائیں گے اور اس کی نمازیں بھی ادا ہوجائیں گی۔
فالحاصل ان الراجح عند الکثر العلماء ان رسول اﷲ ﷺ رایٰ ربہ بعینی رأسہ لیلۃ لأسراء لحدیث ابن عباس وغیرہ مما تقدم واثبات ہٰذہ لا یأخذ ونہ الا بالسماع من رسول اﷲ ﷺ ہٰذا مما لا ینبغی ان یتشکک فیہ۔ (مسلم شریف: ج۱، ص۹۷)-
وإن أنکر بعض ما بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بہا کقولہ ان اﷲ تعالٰی جسم کالأجسام وإنکارہ صحبتہ الصدیق فلا یصح الأقتداء بہ أصلًا فلیحفظ: کما فی الدر۔ (شامی: ج۱، ص۵۶۱)-
وکیفیتہ ان یکبر بعد سلامہ الاول ویخرّ ساجدًا ویسج فی سجودہ ثم یفعل ثانیًا کذالک ثم یتشہد ثانیًا ثم یسلم کذا فی المحیط؛ ویأتی بالصلاۃ علی النبی ﷺ والدعاء فی قعدۃ السہو ہو الصحیح۔ (الھندیہ: ج۱، ص۱۳۵)-
فی الدر: کثرت الفوائت نوی اول ظہر علیہ أو اٰخرہ۔ وفی الرد تحت (قولہ کثرت الفوائت) مثالہ لو فاتہ صلاۃ الخمیس والجمعۃ والسبت فاذا قضاہا لا بد من التعیین لأن فجر الخمیس مثلًا غیر فجر الجمعۃ فان اراد تسہیل الأمر یقول اول فجر مثلًا، فانہ اذا صلاۃ یصیر ما یلیہ أولًا أو یقول اٰخر فجر فانہ ما قبلہ یصیر اٰخرًا ولا یضرہ عکس الترتیب لسقوطہ بکثرۃ الفوائت، وقیل لا یلزمہ التعیین أیضًا کما فی صوم ایام من رمضان واحد (الی قولہ) والأصح الاشتراط۔ اھـ (شامی: ج۲، ص۷۶)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1