ایک شخص فرضِ عین جہاد میں شریک ہے، وہ بیوی کو بھی ترغیب دیتاہے اور کہتاہے اگر تو شریک نہیں ہوسکتی تو کم از کم میرے لیے رکاوٹیں نہ ڈال، ایک دن اس شخص نے حدیث کی کتابیں اُٹھائیں اور بیوی سے کہا تجھے کچھ سنالوں تاکہ تیرا ذہن بنے تو بیوی نے تنگ ہوکر کہا مجھ سے کوئی بات نکل جائے گی (یعنی مجھے تنگ نہ کر) اس شخص نے بیوی سے کہا کہ ’’کیا تو کافر ہے‘‘؟ تو بیوی نے کہا ’’کافر ہوں‘‘ تو اس شخص نے بیوی سے کہا کہ’’ کیا تو کافر ہے‘‘؟ تو بیوی نے کہا’’ کافر ہوں‘‘، پھر وہ شخص اس وقت چپ ہوگیا، دوسرے دن اس نے بیوی سے کہا ایسی بات جو تونے کی ہے، ایسی باتوں سے آدمی کافر ہوجاتاہے تو بیوی نے کہا کافر ہوجاؤں بعد میں اس شخص نے بیوی سے پوچھا کہ جو تونے کہا کافر ہوجاؤں تو ہوجاؤں یہ الفاظ کس نیت سے کہے؟ تو بیوی کہتی ہے میں نے مزاح میں کہے تھے، اب سوال یہ ہے ان الفاظ سے آدمی واقعتاً کافر ہوجاتاہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
سوال میں مذکور جملے بولنے سے آدمی کافر ہوجاتاہے، اس لیے سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ اپنے مذکور جملے بولنے پر بصدق دل توبہ و استغفار کرے اور تجدید ایمان کے ساتھ تجدید نکاح بھی کرے اور آئندہ اس طرح کے الفاظ بولنے سے مکمل اجتناب بھی کرے۔
فی الفتاویٰ البزازية علٰی هامش الفتاویٰ الهندية: ضرب عبدہ أو ولدہ کثیرا، فقیل له الست بمسلم فقال لا قیل یکفر إذا قال عمدًا وإن قال غلطًا لا یکفر۔ اھـ (ج۶، ص۳۳۰)
وفیه ایضًا: والرضا بکفر نسبه کفر بلا نزاع وإنما الکلام فی الرضا بکفر غیرہ۔ اھـ (ج۶، ص۳۲۶)
الفتاوى الهندية:وقد حكي عن بعض أصحابنا أن رجلا لو قيل له ألست بمسلم فقال لا يكون ذلك كفرا كذا في فتاوى قاضي خان قالت امرأة لزوجها ليس لك حمية ولا دين الإسلام ترضى بخلوتي مع الأجانب فقال الزوج ليس لي حمية ولا دين الإسلام فقد قيل أنه يكفر (2/ 277)
وفیها ایضاً:ومن یرضی بکفر نفسه فقد کفر (2/280) واللہ اعلم!
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1