السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
عرض یہ ہے کہ ایک ادارہ مختلف بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹس کھولتا ہے، جن سے حاصل ہونے والا منافع ادارہ غریب اور مستحق افراد کے علاج و معالجہ پر خرچ کرتا ہے۔
ہمارے ایڈمنسٹریشن میں سے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جائز نہیں ہے اور کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ جائز ہے کیونکہ یہ ادارہ پرافٹ لے رہا ہے اور انفرادی حیثیت میں نہیں ہے یہ ادارے کی حیثیت میں ہے ۔
آپ کی رہنمائی ہمارے لیے باعثِ اصلاح ہوگی۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ
کیا ایسے سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل ہونے والا منافع ادارے کے لیے شرعا جائز ہے؟
اور کیا اس منافع کو مستحق مریضوں کے علاج پر خرچ کرنا درست ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی ، کہ مذکورہ ادارہ کن بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹس کھولتا ہے، تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا۔ تاہم اگر مذکورہ ادارہ سودی بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹس کھلواتا ہو، جہاں طے شدہ اضافہ (منافع) دیا جاتا ہے جو درحقیقت سود (ربا) کے حکم میں داخل ہے، تو یہ عمل شرعاً ناجائز و حرام ہے، خواہ یہ معاملہ کرنے والا کوئی فرد ہو یا ادارہ ہو شرعاً دونوں کا حکم یکساں ہے ،لہذا مذکور ادارے کے منتظمین پر لازم ہے کہ دوسرے ضرورت مند لوگوں کے تعاون کے لئے حرام کمائی پر مشتمل معاملات کرنے سے مکمل اجتناب اور اس ثواب کے لئے حلال اور جائز ذرائع آمدن سے حاصل شدہ رقم خرچ کرنے کا اہتمام کریں ۔
کما فی الشامیۃ:وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه (ج6 ص 386)
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية : والكسب الخبيث هو أخذ مال الغير لا على وجه إذن الشرع، فيدخل فيه القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق وما لا تطيب نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه كمهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك (2) .والواجب في الكسب الخبيث تفريغ الذمة والتخلص منه برده إلى أربابه إن علموا، وإلا إلى الفقراء (ج 34 ص 245)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0