میرا سوال یہ ہے، کہ آج کل اکثرلوگوں کے سودی بینکوں میں کرنٹ اکاونٹ ہے، اور بینک اکاونٹ ہولڈرکو اس رقم پر کوئی سود نہیں دیتا، البتہ بینک کرنٹ اکاونٹ میں جمع کردہ رقم دوسرے لوگوں کو سودی قرض کے طورپر جاری کرتاہے، مثال کے طورپر کسی بینک کے پاس ٹوٹل پچاس ہزار کرنٹ اکاونٹ ہولڈر ہیں، اور ہر اکاونٹ میں ہزار روپے کا بیلنس ہے، تو اگر بینک اس پچاس ملین روپے میں سےچالیس ملین روپے بطور سودی قرض لوگوں کو دیتاہے، تو کیا ہم اس سودی معاملات کو سپورٹ کرنے والے نہیں ہوں گے؟ اور ہماری اس پر رقم سودی منفعت حاصل کرنے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ کے ہاں ہماری جواب دہی ذمہ داری کس حد تک ہوگی؟
اگرچہ علماء کرام نے بوقت ضرورت اور مجبوری کے کسی بھی سودی بینک میں کرنٹ اکاونٹ کھلوانے اور اس میں رقم رکھنے کی جازت دی ہے، اور امید ہے کہ اس مجبوری کے تحت اکاونٹ میں رکھی ہوئی رقم کو بینک کے سودی معاملات اور سرمایہ کاری میں استعمال ہونے پر بروزقیامت مواخذہ بھی نہ ہوگا۔ لیکن فی زماننا چونکہ خالصتا سودی بینکوں کے مقابلہ ایسے بینک بھی موجود ہیں، جو مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کے زیرنگرانی غیرسودی معاملات سرانجام دے رہے ہیں۔ اور ہماری روزمرہ کی ضروریات کے لیے ان بینکوں میں کرنٹ اکاونٹ کھلوانا کافی ہوجاتاہے، اس لیےبوقت ضرورت بحیثیت ایک مسلمان کے ہمیں سودی بینکوں میں کوئی بھی اکاونٹ کھلوانے کے بجائے غیرسودی بینکوں میں اکاونٹ کھلوانا چاہیے، باقی اگر ان غیرسودی بینکوں میں ہونے والے معاملات بھی شرعی ہوں، تو اس کی ذمہ داری ان علمائے کرام کی ہوگی، جو ان کے معاملات کو سودی عنصر سے پاک اور صاف قراردیتے ہیں، اور ایک عام صارف کا اس میں کوئی عمل دخل نہ ہوگا۔
القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 278)
یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَo
صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1598)
عن جابر -رضي اﷲ عنہ- قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔
رد المحتار: (99/5، ط: دار الفکر)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0