بینک میں جب کوئی رقم رکھتا ہے منافع کے لئے تو وہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ اگر ہم اپنی رقم کو فکس کر دیں تو یہ صحیح ہے یا نہیں کہ ہم ہر مہینے بینک سے منافع لیتے ہیں ؟
مذکور طریقہ سے کسی سودی بینک میں رقم رکھوا کر منافع لینا تو بلاشبہ سود اور ناجائز ہے، اس سے احتراز لازم ہے، تاہم سائل اگر اس اجمال کی تفصیل لکھ کر بھیج دے تو اس پر مکرر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
لقوله تعالى : ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)-
وفي الدر المختار: القرض بالشرط حرام والشرط لغو (إلى قوله) كل قرض جر نفعاً حرام الخ
وفي حاشية ابن عابدين: مطلب كل قرض جر نفعا حرام قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)-
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0