۱۔ آج کل کار فائنینسنگ / کار لیزنگ کا جو کام کیا جا رہے، کیا یہ درست ہے ؟ ہمارے ایک دوست نے ایک مدرسہ کے مفتی صاحب سے فتویٰ لیا ہے، اور انہوں نے فتویٰ دیا ہے کہ اس کام میں کوئی قباحت نہیں ہے،جبکہ ہم نے بھی ایک مفتی صاحب سے فتویٰ لیا ہے، تو انہوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے، مگر اس صورت میں کہ اس کی انشورنس نہ کی ہوئی ہو، آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ شریعت کی رو سے صحیح طریقہ کیا ہے ؟
۲۔ غسل کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
نقد کے مقابلہ میں ادھار یا قسطوں پر خرید و فروخت کی صورت میں زیادہ قیمت مقرر کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ،اور یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ۔
صورتِ مسئولہ میں بینک سے لیز پر گاڑی خریدنے میں درجِ ذیل شرائط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
(1) :بینک گاڑی شوروم وغیرہ سے خرید کر اپنے قبضہ میں لے چکا ہو، اور پھر دوسرے عقد کے ذریعے کسٹمر پر فروخت کرے ۔
(۲) :بینک نے اپنی مرضی سے گاڑی انشورنس کروائی ہو۔
(۳): پہلی مجلس ِعقد میں ہی طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(۴) :ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے۔
(۵) :یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہوں گی ۔
(۶) :کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ و غیرہ مشروط نہ ہو۔
ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا بلا شبہ جائز اور درست ہے،ان میں سے کوئی ایک شرط بھی فوت ہو گئی، تو مذکور معاملہ جائز نہیں ہوگا ۔
(۲) غسل کا طریقہ یہ ہے کہ اول دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے، پھر استنجا کرے اور بدن سے حقیقی نجاست دھو ڈالے پھر وضو کرے پھر تمام بدن پر تھوڑا پانی ڈال کر ہاتھ سے ملے ، اس کے بعد سارے بدن پر تین بار پانی بہائے ۔(مأخوذ ار تعلیم الاسلام) ۔
ففي الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع اھ (4/ 531)۔
في المبسوط لشمس الدين السرخسي: العقد على انه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو (قال) إلى شهر بكذا (إلی قوله) وهذاإذا افترقا على هذا فان كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لانهما ما افترقا الا بعد تمام شرط صحة العقد. (6/ 13)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0