یوبی ایل بینک شہ زوراور ٹریکٹر قسطوں پے دے رہا ہے، جس پہ حکومت کی سبسٹنڈ ہے، کافی کم پیسوں پے قسطوں پےمل رہی ہے، تو کیا لینا جائز ہے؟ اگر آپ کو اس سکیم کے بارے میں معلوم ہے،تو براہِ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ یو بی ایل بینک ایک سودی بینک ہے، اور کسی بھی سودی بینک سے سودی معاملہ کر کے گاڑی ، ٹریکٹر وغیرہ خریدنا جائز نہیں، لہذا یوبی ایل بینک کے ساتھ سودی معاملہ کر کے گاڑی لینے سے اجتناب لازم ہے۔
و فی الفقہ البیوع: وکما یجوز ضرب الاجل لاداء الثمن دفعة واحدۃ کذلک یجوز ان یکون اداء الثمن باقساط ، بشرط ان تکون آجال الاقساط ومبالغھا معینة عند العقد ، وقد یسمی البیع بالتقسیط ، وھو نوع من البیع المؤجل والاقساط قد تسمی نجوما الخ (1/539)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0