محترم جناب مفتی صاحب!
کاروباری سلسلہ میں بینک سے قرض لینے کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ حلال ہے یا حرام ؟کیونکہ آج کل قرض دینے والا کوئی نہیں ہوتا کہ کاروبار شروع کروں، میرا بھی تعلق ایک متوسط درجہ کی خاندان سے ہے، میری نوکری سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے ، لہذامیں نے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کرنا ہے ،اور میرے خاندان اور رشتہ داروں میں ایسا کو ئی بندہ نہیں ،جو مجھے قرض دے سکے ، آیا ایسی صورت حال میں بینک سے قرض لینا حرام ہے کہ حلال؟ نیشنل بینک آف پاکستان کاروباری اسکیم کے نام سے آسان قسطوں پر قرض دیتا ہے ، جس کا صدر پاکستان نے اعلان و منظور کیا ہوا ہے۔ اورسود کی وجہ سے وہ حرام ہو تو براہِ کرم آپ تجویز کریں کہ میں کہاں سے قرض لوں ؟
واضح ہو کہ کسی شخص ، بینک یا کسی دوسرے ادارے سے غیر سودی قرض لینا بلا شبہ جائز اور درست ہے، جبکہ سودی قرض کا معاملہ نا جائز و حرام اور اس سے احتراز لازم ہے۔ اب اگر سائل کو اپنے کاروباری معاملات کے لئے بینک کے علاوہ رقم نا ممکن ہو تو اُسے چاہئیے کہ "میزان بینک " سے معاملہ کر لے ،اور اپنے کاروبار کی نوعیت پر میزان بینک اُسے جن شرائط کے تحت قرض فراہم کرے ، ان شرائط کی مکمل تفصیل بیان کر کے پہلے حکمِ شرعی معلوم کرے اور اس کے بعد معاملہ کرے ۔
كما قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)-
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0