قطر اسلامک بینک کے بارے میں کیا احکامات جاری ہوئے ہیں مطلع فرمائیں ؟
واضح ہو کہ ہمارے سامنے ’’قطر اسلامک بنک ‘‘ کا حکم ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ، اس لئے کہ متعلقہ بنک کی طرف سے ہمیں ایسا مواد نہیں دیا گیا جس پر غور و فکر کے بعد اس سے متعلق حکمِ شرعی تحقیقی طور پر بیان کیا جا سکے ۔ البتہ یہ بنک بھی اگر کسی شرعی ایڈوائزری بورڈ کی نگرانی میں اپنے فیکسڈ ڈپازٹ میں مضاربہ و مشارکہ " اور عقدِ مرابحہ " و اجارہ وغیرہ معاملات اصولِ شریعہ کے موافق بجا لانے کا قانوناً پابند ہو اور شریعہ بورڈ بھی رسوخ فی العلم رکھنے والے قابلِ اعتماد علماء پر مشتمل ہو اور بنک میں انجام دیے جانے والے معاملات انہی اصولِ شرعیہ کے موافق انجام دیے جاتے ہوں تو ایسی صورت میں مذکور بینک کے اندر انویسٹمنٹ کرنا اور اس سے حاصل ہونے والے منافع کو اپنی ضروریات میں استعمال کرنا شرعاً بھی جائز اور درست ہو گا ۔ ورنہ اس کے بجائے "میزان بنک" یا "بنک اسلامی" کے ذریعے کاروبار کا اہتمام کیا جائے کہ یہ دونوں معتمد علماء کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں۔
كما في مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «طلب كسب الحلال فريضة بعد الفريضة» . رواه البيهقي في شعب الإيمان اھ (2/ 847)۔
و في الدر المختار: وكل أنواع الكسب في الإباحة سواء على المذهب الصحيح كما في البزازية وغيرها اھ (6/ 462)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، (إلی قوله) أقول: فالمراد من قولهم كل أنواع الكسب في الإباحة سواء أنها بعد أن لم تكن بطريق محظور اھ (6/ 462)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0