میرا سوال یہ ہے کہ اگر بینک سے گھر خریدنے یا چھوٹا کاروبار کرنے کے لئے (قرض) لون لیا جائے ،یا میزان اسلامک بینک سے لون (قرض) لیا جائے، تو اس رقم سے کیا گیا بزنس (کاروبار) اور خریدا ہوا مکان جائز ہے؟
واضح رہے کہ مروّجہ سودی بینکوں سے قرض لینا سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، اور اس رقم کو مکان یا کاروبار میں لگانا بھی جائز نہیں ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ مذکور غرض کے لئے ’’میزان بینک‘‘ یا ’’بینک اسلامی‘‘ کے ساتھ کیا گیا معاملہ حدودِ شرعیہ کو ملحوظ رکھ کر اور جید علماء کرام کی نگرانی میں کیا جاتا ہے،اس لئے ان بینکوں کے ساتھ انجام دیا جانے والا معاملہ نہ تو سودی معاملہ کہلائے گا، اور نہ ہی اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے نفع کو سود کہا جا سکتا ہے ، اسی بناء پر ان بینکوں کے ساتھ معاملات کی اجازت بھی دی جاتی ہے، تاہم اگر عملی کاروائی میں کوئی شبہ یا شرعی خامی معلوم ہو تو اس کی وضاحت لکھ کر حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
كما في أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً قيل في معنى أَضْعافاً مُضاعَفَةً وجهان أحدهما المضاعفة بالتأجيل أجلا بعد أجل ولكل أجل قسط من الزياده على المال والثاني ما يضا عفون به أموالهم اھ (2/ 324)۔
و في حاشية ابن عابدين: وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ (6/ 385)-
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0