السلام علیکم!
پاکستان میں اسلامی بینکنگ ہے یا نہیں؟ لوگ مفتی تقی عثمانی صاحب کا نام لیتے ہیں، جب کہ میں نے بینکوں کی پوری معلومات لی ہیں ،اسلامی بیکنگ نہیں صرف دکھاوا ہے، سب سود ہے، سو خدا کے لئے میری مشکل حل کریں، ایک صاحب نے کہا ہے تقی عثمانی صاحب کو پیسے ملتے ہیں، ان کا نام اس لتیے استعمال ہو رہا ہے، اگر نہیں تو وہ منع کیوں نہیں کرتے؟َ یہ لوگو ں نے تقی عثمانی صاحب کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں کر رہے، اسلام میں بینک ہے یا نہیں؟ فتویٰ دیں اس پر؟
پاکستان میں المیزان اور بینک اسلامی وغیرہ کو بعض علماء کی طرف سے جو کاروباری فارمولا بنا کر دیا گیا ہے، وہ اگرچہ دوسرے مروّج بینکوں سے کہیں بہتر اور شریعتِ مطہرہ کے بھی قریب تر ہے، مگر اس نظام کو چلانےوالے افراد اصولِ شرعیہ سے ناواقفیت اور شرعی معاملات سے جہالت کی بناء پر عموماً ان معاملات اور فارمولے کو عملی طور پر بجا لانے میں بہت سی غلطیوں کا شکار اور عملاً غیر اسلامی بینکوں کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں ،جو دراصل ضابطے کی خرابی اور غلطی نہیں، بلکہ متعلقہ عملے کی نا سمجھی اور غلطی ہے، جس کی بناء پر انجام دیا جانے والا معاملہ بھی شرعاً ناجائز ہو جاتا ہے، اس لئے انتظامیہ کی غلطی کو حضرت مفتی صاحب کی طرف منسوب کرنا اور اس کی بنیاد پر بدگمانی کرنا بلکہ الزام تراشی پر اتر آنا انتہائی نامناسب حرکت ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔ تاہم ان اداروں کے غیر سرکاری اور پرائیویٹ ہونے کی وجہ سے ان کے اصول وضوابط کے بدلنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے ،جس کی بناء پر اکثر علماءِ کرام ان بینکوں کے ذریعہ کی جانے والی سرمایہ کاری کو بھی شرعاً ناجائز اور حرام بتلاتے ہیں، حالانکہ بنیادی فارمولے کی درستگی کی صورت میں اگر اصولِ شرعیہ سے واقفیت رکھنے والے کسی معتمد شرعی ایڈوائزری کی نگرانی میں یا اس پورے معاملے اور معاہدے کی وضاحت لکھ کر کسی بھی متعمد دار الافتاء سے اس کی حقیقت درست معلوم ہونے کی صورت میں اس بینک کے ساتھ معاملہ کر لیا جائے تو یہ شرعاً بھی جائز اور درست کہلائے گا اور اس میں کسی کا اختلاف بھی نہیں۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0