ایک خاتون کے حیض آنے کی تاریخ تھی اور ڈارک براؤن اور کبھی کبھی تھوڑا سا خون والا ڈسچارج بھی ہورہا تھا،دس دن تک یوں ہی چلتا رہا،پراپر بلیڈنگ نہیں ہوئی،کبھی کبھی درمیان میں تھوڑا سا سرخ رنگ کا بھی ڈسچارج ہوجاتا تھا، دس دن بعد نہا کر نمازیں شروع کردیں، مگر جیسے ہی دس دن گزرے، اب پراپر بلیڈنگ شروع ہوگئی ہےیعنی صحیح طرح،اب سمجھ میں نہیں آرہا کہ جو پہلے نمازیں چھوڑیں وہ غلط تو نہیں تھیں،اور اب اصل حیض شروع ہوا ہے یا وہ پہلے ٹھیک تھا اور اب استحاضہ ہے،(نوٹ: خاتون کا حیض باقاعدہ نہیں ہے،کچھ طبی مسائل کی وجہ سے حیض میں مسائل رہتے ہیں)
واضح ہوکہ حیض شمارہونےکے لیے خون کا مسلسل جاری ہونا شرعاََ ضروری نہیں، بلکہ ایامِ حیض کے اندر نظر آنے والا خون کا دھبہ، خواہ ڈارک براؤن ہو یا تھوڑا سا سرخ رنگ کادھبہ ہو، یہ سب رطوبت شر عاََ حیض ہی شمار ہوتے ہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورخاتون گزشتہ حیض کے بعد مکمل پندرہ دن پاکی کی حالت میں گزار چکی ہو ،اس کے بعدخون جاری ہواہو ، تواگر مذکورعورت کے حیض کے ایام متعین ہوں اور اس مرتبہ خون اس کی عادت سے تجاوز کرکےدس دن سے بھی زائدجاری رہاہو،تو ایسی صورت میں عادت کے مطابق ایام حیض شمارہوں گے، جس میں نماز،روزہ ترک کرے گی، جبکہ اس بعدکے تمام ایام استحاضہ شمارہوں گے،چونکہ دم استحاضہ کی وجہ سے عورت ناپاک شمار نہیں ہوتی، بلکہ پاک شمار ہوتی ہے، لہذا اس پر وقتی اور قضا نماز پڑھنا شرعاََ لازم ہے، البتہ چونکہ شرعاََ وہ معذور ہے، لہذا ہر نئی نماز کا وقت داخل ہونے پر نیا وضو کرکے نماز ادا کرنا لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحديث توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصيراھ (باب الحیض،ج:١،ص:٢٩٨،ط:سعید)
وفي المبسوط للسرخسي: (فصل ألوان ما تراه المرأة في أيام الحيض) ستة السواد والحمرة والصفرة والكدرة والخضرة والتربية،وأما الكدرة فلون كلون الماء الكدر، وهو حيض في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى سواء رأت في أول أيامها أو في آخر أيامها، وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - إن رأت الكدرة في أول أيامها لم يكن حيضا، وإن رأت في آخر أيامها يكون حيضا اھ(فصل ألوان ما تراه المرأة في أيام الحيض،ج:٣،ص:١٥٠،ط:دار الفكر)
وفي حاشية الطحطاوى علي مراقي الفلاح:واعلم أنه لا يشترط أن يستغرق نزول الدم ثلاثة أو عشرة لأن ذلك نادر فرؤيته كل يوم ولو شيأ قليلا تكفي كما في السراج بل المعتبر وجوده في أول المدة وآخرها ولو تخلل بينهما طهر ويجعل الكل حيضا اھ(باب الحيض والنفاس والاستحاضة،ص:١٣٧،مط:رشيديه)
وفی الہندیۃ: فإن رأت بين طهرين تامين دما لا على عادتها بالزيادة أو النقصان أو بالتقدم والتأخر أو بهما معا انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقيا كان الدم أو حكميا هذا إذا لم يجاوز العشرة فإن جاوزها فمعروفتها حيض وما رأت على غيرها استحاضة فلا تنتقل العادة هكذا في محيط السرخسي اھ (الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، ج: ١، ص: ٣٩، ط: ماجدية)
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0لیکوریا کی مریض عورت کی رطوبت نیز خیالاتِ فاسدہ سے نکلنے والی رطوبت کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1