کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وہ عورت جس کا بچہ پیدا ہوجائے اور خون مقررہ عادت سے کم آئے مثلاً ۳۰ دن سے ۱۰ یا ۵ دن ہوجائے اور یہ بھی ماہِ رمضان میں، تو اب یہ عورت رمضان کے باقی روزے رکھ سکتی ہے یا نہیں؟
ایسی صورت میں شوہر کے لۓ اس کے قریب آنا یعنی جماع کرنا جائز نہیں، مگر احتیاطاً اس پر مذکور ۱۰ ایام کے بعد نماز پڑھنا اور روزے رکھنا لازم ہے۔
فی البحر الرائق : و في الخلاصة إذا انقطع دم المرأة دون عادتها المعروفة في حيض أو نفاس اغتسلت حين تخاف فوت الصلاة و صلت و اجتنب زوجها قربانها احتياطا حتى تأتي على عادتها لكن تصوم رمضان احتياطا اھ(1/ 215)۔
و فی الفتاوى الهندية : لو انقطع دمها دون عادتها يكره قربانها و إن اغتسلت حتى تمضي عادتها و عليها أن تصلي و تصوم للاحتياط . هكذا في التبيين اھ(1/ 39)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0