کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حنفی مسلک میں ایّامِ حیض میں طالبات کے قرآن پڑھنے کے جواز کی کوئی صورت ہے؟ کیونکہ مولانا مفتی رشید احمد صاحب نے اس کو قطعاً ممنوع قرار دیا ہے۔ براہِ کرم ہمارے مسئلہ پر غور و فکر فرما کر تسلّی بخش جواب عنایت فرمائیں۔
طالبات کا مخصوص ایّام میں قرآن کریم کو چھونا اور پڑھنا بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ حافظہ طالبات کو اگر قرآن بھولنے کا اندیشہ ہو تو تقطیع یعنی کلمات کو کاٹ، کاٹ کر اس طور پر پڑھ سکتی ہیں کہ مثلاً ’’الحمد‘‘ ایک سانس میں ’’للہ‘‘ ایک سانس میں اور ’’رب‘‘ الگ اور ’’العالمین‘‘ الگ سانس میں پڑھیں ، اسی طرح کسی دوسری طالبہ یا اپنے ہی محرم یا ٹیپ ریکارڈ وغیرہ سے سُن کر بغیر زبان ہلائے محض دل ہی دل میں بھی اُسے دہرا سکتی ہیں۔
اور اگر مذکور طریقوں میں سے کوئی جائز طریقہ اختیار نہ کر سکتی ہو تو ان ایّام کی رخصت لےلینی چاہیے ، ورنہ بلا وجہ حرام شرعی کے ارتکاب سے آخرت میں سخت مواخذہ ہوگا، کیونکہ قرآن کریم کی تلاوت اور اسے یاد کرنا تب عبادت بن سکتا ہے جبکہ محرمات سے بچتے ہوئے آدابِ شرعیہ بھی ملحوظ ہوں۔ واللہ أعلم بالصواب!
ففی الفتاوى الهندية: (ومنها) حرمة قراءة القرآن لا تقرأ الحائض والنفساء والجنب شيئا من القرآن والآية وما دونها سواء في التحريم على الأصح( إلی قوله) ولا تحرم قراءة آية قصيرة تجري على اللسان عند الكلام كقوله تعالى {ثم نظر} [المدثر: 21] أو {ولم يولد} [الإخلاص: 3] . هكذا في الخلاصة اھ (1/ 38)
وفیها أیضاً: وإذا حاضت المعلمة فينبغي لها أن تعلم الصبيان كلمة كلمة وتقطع بين الكلمتين ولا يكره لها التهجي بالقرآن. كذا في المحيط اھ (1/ 38)
وفی فتح القدیر: وإذا حاضت المعلمة فينبغي لها أن تعلم الصبيان كلمة كلمة وتقطع بين الكلمتين اھ(۱/۱۴۹)
وفیه أیضاً: وحرمة القرآن إلا إذا كانت آیة ’’قصیرة‘‘ تجری علی اللسان عند الکلام کقوله ثم نظر والم یولد ولایکره التھجی اھ (۱/۱۴۹)
وفي رد المحتار: (قوله وأدنى الجهر إسماع غيره إلخ) اعلم أنهم اختلفوا في حد وجود القراءة على ثلاثة أقوال:
فشرط الهندواني والفضلي لوجودها خروج صوت يصل إلى أذنه، وبه قال الشافعي. وشرط بشر المريسي وأحمد خروج الصوت من الفم وإن لم يصل إلى أذنه، لكن بشرط كونه مسموعا في الجملة، حتى لو أدنى أحد صماخه إلى فيه يسمع. ولم يشترط الكرخي وأبو بكر البلخي السماع، واكتفيا بتصحيح الحروف. واختار شيخ الإسلام وقاضي خان وصاحب المحيط والحلواني قول الهندواني، وكذا في معراج الدراية(الي قوله) وبما قررناه ظهر لك أن ما ذكر هنا في تعريف الجهر والمخافتة، ومثله في سهو المنية وغيره مبني على قول الهندواني لأن أدنى الحد الذي توجد فيه القراءة عنده خروج صوت يصل إلى أذنه أي ولو حكما اھ (1/ 534)
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0