السلام علیکم! میرا نام سعید یٰسین ہے میں "اوہایو" میں رہتا ہوں اور مجھ کو آپ سے چند سوالات پوچھنے ہیں:
(۱) یہاں امریکہ میں کچھ اسلامی جماعتیں ہیں جن کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کوئی غلط کام کرے مثلاً نشہ کرتا ہو یا چندے کے بکس سے چوری کرے تو ان جماعتوں کی شوریٰ کو اس بات کا اختیار ہے کہ اس شخص کو تعزیراً کوڑے لگائے، چنانچہ ایک علاقے کے مسجد والوں نے ایک شخص کو جس نے مسجد کے چندے کے بکس سے چوری کی تھی اسے مسجد میں آنے سے منع کردیا تھا یہاں تک کہ وہ اس جرم کے بدلے میں کوڑوں سے نہ مارا جائے، پھر ایک تبلیغی جماعت نے جن کی تشکیل اس علاقے میں ہوئی تھی اس شخص کو مسجد میں لے آیا تھا، بیان کے بعد مقامی ساتھیوں نے اس شخص کے بارے میں مشورہ کیا نیز اس شخص نے اپنے جرم کا اقرار بھی کرلیا، فیصلہ یہ ہوا کہ اس شخص کو مسجد میں آنے کی اجازت تب ہوگی جب یہ اپنے جرم کی وجہ سے 11 کوڑے کھالے چنانچہ اس نے قبول کیا اور اسے 11کوڑے لگائے گئے، آپ ہمیں اس مسئلے کے بارے میں فتویٰ دیں کہ اس صورت میں کیا کیا جانا چاہئے تھا؟
(۲) یہاں پر دو گروہ ہوگئے ہیں، ایک کہتا ہے کہ اﷲ عرش پر ہے اور دوسرا یہ کہتا ہے کہ اﷲ ہر جگہ پر ہیں، آپ ہمیں یہ سمجھائیں کہ اﷲ کا ہرجگہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟
(۳) ما ملکت ایمانکم (ملک یمین) کا مطلب کیا ہے لوگوں کا ان پر قابض ہونے کا کیا مقصد ہے؟ یہاں امریکہ میں چند مسلمان بھائیوں کی یہ رائے ہے کہ اب بھی ملکِ یمین کا ہونا درست ہے؟
(۱) جب آپ کے یہاں دارالحرب میں مسلمانوں نے باہمی مشورہ سے ایک جماعت کو دیگر مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پنچائت کا درجہ دیا ہے اور انہیں تعزیر جاری کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہَے تو صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور پر تعزیر جاری کرنا درست ہے بشرطیکہ قانوناً اس کی اجازت ہو، تاہم مسجد سے روکنا قطعاً درست نہیں اس سے احتراز کرنا چاہئے اس طرح شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ وہ اپنے قبیح فعل سے ،صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کیلئے ایسے عمل سے مکمل اجتناب بھی کرے۔
(۲) اﷲ تعالیٰ اپنی ذات بابرکات کے اعتبار سے عرشِ بریں پر اور اپنی صفات و تجلیات کے اعتبار سے ہر جگہ حاضر و ناظر ہے، سمیع و بصیر ہیں اور اس پر ایمان رکھنا واجب ہے، البتہ اس معاملہ میں زیادہ بحث کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔
(۳) اس سے مراد وہ غلام باندیاں ہیں جو جنگ کے ذریعے مسلمانوں کے ہاتھ آجائیں تو ان باندیوں کے اپنی ملکیت میں آجانے کے بعد بغیر نکاح کے بھی ان سے استمتاع جائز اور درست ہے، آج بھی مسلمان اگر کسی کافر ملک پر قابض ہوجائیں تو یہ صورت ممکن جائز اور درست ہے، مگر چونکہ ۱۹۲۶ء کے معاہدہ کے تحت بعض ممالک نے اپنے مغلوبین کو باندی وغیرہ نہ بنانے کا عہد کیا تھا، اس لیے اگر وہ ممالک اپنے اس وعدہ کی پاسداری کریں تو اس کی بھی شرعاً اجازت ہے۔ واﷲ اعلم
کما فی ردّ المحتار: لو اعتاد سرقۃ ابواب المسجد یجب أن یعزر ویبالغ فیہ ویجس حتی یتوب۔(ج۷، ص۹۳)-
کما فی روح المعانی: عن مالک انہ قال الاستواء غیر مجہول والکیف غیر معقول والایمان بہ واجب والسوال عنہ بدعۃ وفیہ ایضًا ولا یراد بذالک العلو بالمسافۃ والتحیز والکون فی المکان۔ الخ (ج۸، ص۱۳۴، ۱۳۶)-
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0