میرا سوال میری بیوی کے متعلق ہے: اس کا حیض تیسرے دن ختم ہوگیا ،تھوڑے وقت کے بعد (عام طور پر اسی دن یا دوسرے دن) وہ خون کو دوبارہ دیکھتی ہے، وہ نماز پڑھنا بند کردیتی ہے ،یاد رہے کہ تیسرے دن بعد وہ غسل بھی کرلیتی ہے اور نماز بھی شروع کر دیتی ہے، پانچویں دن صاف ہوجاتاہے، تیسرے دن کے بعد ہم ہمبستری بھی کرتے ہیں،میرا سوال یہ ہے کہ آیا تین دن کے بعد نماز پڑھنا درست ہے اور کیا ہمبستری بھی درست ہے؟ آپ کے جواب کا منتظر!
یہ چاروں دن حیض کے شمار ہوں گے اور ان ایام میں نماز پڑھنا اور ہمبستری کرنا جائز نہیں، لہٰذا سائل اور اس کی بیوی پر لازم ہے کہ چوتھے دن خون بند ہونے کے بعد مذکورہ امور بجا لایا کریں اور اس سے پہلے احتراز کریں۔
قال فی الفتاوی العالمگیریة: فان لم یجاوز العشرة فالطهر والدم کلاهما حیض سواء کانت مبتدأة أو معتادة (۱/ ۳۷)
وقال فی الدر المختار: ثم ذکر احکامه بقوله (یمنع صلاة) مطلقًا ولو سجدة شکر (وصومًا) وجماعًا (۱/ ۲۹۰) واللہ اعلم!
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0