شیئرز کا کاروبار

شئیرز خرید کر اسی دن فروخت کرنا

فتوی نمبر :
90370
| تاریخ :
2025-12-29
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / شیئرز کا کاروبار

شئیرز خرید کر اسی دن فروخت کرنا

السلام علیکم! میرا سوال اسٹاک ٹریڈنگ ہے، ہم جو بھی پرچیز یا سیل کرتے ہیں، وہ ریئل ٹائم میں سافٹ ویئر میں اپ ڈیٹ ہو جاتا ہے، کیا ہم اسی دن ٹریڈنگ کر سکتے ہیں یا اور کوئی صورت بنتی ہے، جیسی ہم ٹریڈنگ کر سکتے ہیں۔ جزاک اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شیئرز کی خریدوفروخت کے جائز ہونے کےلئے جہاں یہ ضروری ہے کہ وہ شیئرز حلال کاروباری کمپنی کے ہوں، تو وہاں یہ بھی لازم ہے کہ وہ شیئر ہولڈر کے قبضہ میں بھی ہوں، قبضہ کئے بغیر شئیرز کو آگے بیچنا جسے اصطلاح میں ”ڈے ٹریڈنگ“ (day trading) کہتے ہیں ، شرعاً جائز نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اسٹاکس کی خریدوفروخت کا جو نظام رائج ہے، اس کے مطابق اگرچہ شیئرز خریدتے ہی KAT میں شیئرز کا اندراج خریدار کے نام ہوجاتا ہے، چنانچہ ان شیئرز کا نفع نقصان بھی خریدار کو ہی پہنچتا ہے، لیکن سی ڈی سی کے ذریعے متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں خریدار کے نام میں تبدیلی کے لئے دو کاروباری دن درکار ہوتے ہیں، اسٹاک ایکسچینج کی اصطلاح میں نام کی اس تبدیلی کو ہی ڈیلیوری اور قبضہ کہا جاتا ہے۔ اور شرعی طور پر بھی سی ڈی سی اکاؤنٹ میں شیئرز کے خریدار کے نام پر منتقل ہونے کو قبضہ سمجھا گیا ہے، لہٰذا سی ڈی سی اکاؤنٹ میں خریدار کے نام پر شیئرز منتقل ہونے سے پہلے ڈیلیوری(جس میں تقریباً دو دن لگتے ہیں) نہ ہونے کی وجہ سے شیئرز کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے،اس لئے ڈے ٹریڈنگ قبضہ شرعیہ کے تحقق نہ ہونے کی بناء پر درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفقہ البیوع: ثم إن کان اقتناء أسھم الشرکات جائزا، انطبق علی بیعہ وشراءہ جمیع الشروط الشرعیۃ لجواز البیع وصحتہ (إلی قولہ) وکذالک یجب أن تکون الأسھم مقبوضۃ لدی البائع قبل أن یبیعھا إلی آخر، وأن لا یکون بیعا مضافا إلی المستقبل، وأن لا یستلزم محظورا آخر، مثل الربا (إلی قولہ) أما البیوع الفوریۃ، فالطریق المتبع فیھا فی البورصات أن عند عقد البیع یسجل فی کمبیوتر البورصۃ ما یثبت ھذا البیع، وتکون البورصۃ ضامنۃ لأداء واجبات البائع والمشتری، ولکن البائع یسلم المبیع، والمشتری یؤدی الثمن فی وقت لاحق یکون تحدیدہ مختلفا فی بورصات مختلفۃ، ففی بعضھا یکون ذالک بعد ساعات من یوم العقد نفسہ، وفی بعضھا یکون بعد یوم واحد، وفی بعضھا بعد یومین، أو ثلاثۃ، ولایکون عادۃ أکثر من ثلاثۃ أیام۔ وإن فی ھذا الوقت المحدد من قبل البورصۃ، تتم عملیۃ التسلیم الذی یقال لہ: Delivery (إلی قولہ) أما التسلیم الأسھم، فمعناہ أن فی ھذا الوقت یتم انتقال الأسھم إلی اسم المشتری فی دفاتر الشرکۃ التی وقع بیع أسھمھا، وعلی ھذا، فإن ھناک مسائل یجب تنقیحھا من الناحیۃ الفقھیۃ:
المسئلۃ الأولی: أن التسلیم والتسلم لایقع فی بیع الأسھم عند العقد، فإن البائع ربما یبیع أسھما لیس فی ملکہ فی ذالک الوقت۔ وقد تقدم أن ذالک لا یجوز شرعا۔
المسئلۃ الثانیۃ: أنہ إن کانت الأسھم المبیعۃ فی ملک البائع عند العقد، ولکن التسلیم والتسلم لا یقع فی بیع الأسھم عند العقد، فھل یعتبر ذالک تأجیل البدلین؟ والجواب أنہ لیس من قبیل تأجیل البدلین، لأن البیع حال بمعنی أن ملک الأسھم ینتقل إلی المشتری فور تمام العقد، ویحق للبائع أن یطالب بالثمن فورا، ولکن یتأخر التسلیم لأسباب إجرائیۃ، وھذا مثل حبس البائع المبیع إلی تسدید الثمن، فإنہ بیع حال، ولکن یتأخر فیہ اتلسلیم والتسلم۔
المسئلۃ الثالثۃ: أن الذی یجری علیہ العمل فی سوق الأسھم التقلیدیۃ أن المشتری بعد عقد شراء الأسھم، ربما یبیع الأسھم المشتراۃ إلی شخص ثالث قبل موعد التسلیم (Delivery) فھل یعتبر ذالک بیعا قبل القبض، فلا یجوز؟ فربما یظن أنہ لیس بیعا قبل القبض، لأن معنی القبض أن تنتقل إلی المشتری حقوق المبیع والتزاماتہ، وأن یدخل المبیع فی ضمانہ، وإن کل ذالک یحصل بمجرد عقد البیع الأول، حیث یسجل ھذا البیع فی الکمبیوتر، کما اعترف بہ أصحاب البورصۃ۔ وإن ما یقع فی موعد التسلیم ھو تسجیل الملکیۃ باسم المشتری فقط، وإن التأخیر فی تسجیل المبیع باسم المشتری لایمنع من تمام القبض، کما أنہ یمکن أن یشتری رجل سیارۃ، ویقبضھا، ولکن یتأخر تسجیلھا فی الجھات القانونیۃ إلی وقت لاحق، فلا یتوقف القبض علی ذالک التسجیل، بل یتحقق القبض بدونہ، فکذالک یتحقق القبض فی الأسھم قبل تسجیلھا باسم المشتری فی موعد التسلیم۔
ولکن الحقیقۃ، کما یظھر بالتأمل فی ضوابط البورصۃ، أن الذی ینتقل إلی المشتری عند العقد ھو ملک الأسھم فقط، أما القبض فإنہ لایحصل إلا عند موعد التسلیم (إلی قولہ) والحاصل من ھذہ الدراسۃ أن من اشتری سھما، فإنہ لایجوز لہ شرعا أن یبیعہ قبل التسلیم الفعلی الذی یتم فی موعدہ۔ وھذا من أقوی الأسباب لتفادی المضاربات التی تقع فی سوق الأسھم علی أساس التخمین، والتی أفسدت النظام کلہ، واللہ سبحانہ وتعالی اعلم إلخ۔ (المبحث الثالث فی أحکام المبیع والثمن وما یشترط فیھما لجواز البیع، بیع أسھم الشرکات، البیوع الفوریۃ للأسھم، ج 1، ص 378۔388، ط: معارف القرآن)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90370کی تصدیق کریں
0     215
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فیوچر ٹریڈنگ (مستقبل کے سودوں)کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کیا شئیر کے خرید وفروخت میں سود کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے ؟

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شئیرز ملکیت میں آنےسے پہلے فروخت کرنا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 1
  • کمپنیوں کے شیئرز اور مالِ حرام کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شئیر ز کے کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 1
  • شئیرز سے کمائے ہوئے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • بروکر کے لئےشیئرز کی خرید و فروخت کی پیشکش کرنا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کا کاروبار اور اس سے ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شیئرز کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 3
  • شیئرز (حصص)کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • بینک اور دیگر کمپنیوں کے شیئرز خریدنا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی خریدوفروخت اور کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ سے شیئرز کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کسی کمپنی کے شیئرز خریدنے کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے شیئرز کی خرید وفروخت کاحکم اور اس کی شرائط

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 1
  • حلال مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی کے شیئرز خریدنے کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شیئرز کی خرید و فروخت میں (اسٹاک بروکر) کو استعمال کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں ’’مری بریوزی‘‘ کے شیئرز کا کاروبار کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شیئرز کی خرید و فروخت سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شئیرز کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کسی کمپنی کے شیئرز خریدنے کے متعلق تفصیلی فتوی

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
Related Topics متعلقه موضوعات