والد کا بینک میں ابھی ہی سیونگ اکاؤنٹ بنا ہے،میں ابھی17 سال کی ہوں اور ان سے ہی سارا خرچہ لینا ہوتا ہے اور وہ کافی کمزور اخلاق کے مالک ہیں، میں سوال کروں تو جواب نہیں دینگے اور میں بد تمیز ی بھی نہیں کر سکتی، مجھے کیا کرنا چاہیے؟ مجھے گناہ نہ ملے ۔
سائلہ کو چاہیے کہ والد کے ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے انھیں سود سے متعلق قرآن وحدیث میں وارد شدہ وعیدیں بیان کر کے سودی معاملات سے دور رکھنے کی کوشش کرے ،اس کے باوجود اگر وہ اس ناجائز اور حرام کام سے خود کو علیحدہ کرنے پر آمادہ نہ ہو تو سائلہ پر اس کا کوئی گناہ نہ ہوگا ،بلکہ وہ اپنے اس عمل پر آخرت میں خود جوابدہ ہونگے ،جبکہ سائلہ کے والد کا مذکور سیونگ اکاؤنٹ کے علاؤہ اگر جائز اور حلال کاروبار موجود ہو یا کسی ایسے غیر سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوائی ہو جو مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں اپنے مالی معاملات سر انجام دے رہا ہو تو اس کیلئے اپنے ضروری اخراجات کیلئے والد سے خرچہ لینے کی بھی گنجائش ہے ۔
لقوله تعالى : ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)-
و فی فقہ البیوع: وحساب التوفیر ( الی قولہ) ویعطی البنک علی ذلک فائدۃ ربویۃ بنسبۃ ادنی من النسبۃ التی تعطی لصاحب الودیعۃ الثابتۃ التی تورع فیھا الاموال الی مدۃ معینۃ وتعطی البنوک لاصحابھا فائدۃ بنسبۃ اعلی وکل وحدۃ من الحسابین ربوی وبحث، والایداع فی ھذین الحسابین حرام شرعاً لکونہ تعاقداً بالربوا اھ (2/1063)۔
وفي حاشية ابن عابدين: مطلب كل قرض جر نفعا حرام قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)-