میں بینک سے لیز پر گاڑی لینے کے بارے میں معلوم کرتا چاہتا ہوں، یعنی جو لوگ بینک سے گا ڑی نکلواتے ہیں اور پھر قسطوں میں پیمنٹ بینک کو کرتے ہیں، جس کادورانیہ مختلف مدت میں ہوتا ہے، ۳ سال، ۴سال، ۵سال، اس طرح بینک گاڑی کی اصل ویلیو سے کچھ زیادہ رقم لیتی ہے ، کیا یہ جائز ہے ؟
نقد کے معاملے میں ادھار یا قسطوں پر خرید و فروخت کی صورت میں زیادہ قیمت مقرر کرنا شرعاً جائز اور درست ہے اور یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ،صورتِ مسئولہ میں بینک سے گاڑی خریدنے میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے :
(۱)۔ بینک گاڑی شو روم وغیرہ سے خرید کر اپنے قبضے میں لے چکا ہو اور پھر دوسرے عقد کے ذریعے کسٹمر پر فروخت کرے۔
(۲)۔اول مجلس عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(۳)۔ ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے۔
(۴)۔ یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہونگی۔
(۵)۔ کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو۔ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے بینک سے گاڑی قسطوں پر خریدنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، انہیں سے کوئی ایک شرط بھی فوت ہوگئی تو مذکور معاملہ جائز نہیں ہوگا۔
ففي الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع اھ (4/ 531)
وفي المبسوط : المبسوط للسرخسي: وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 8)