میرا سوال یہ ہے کہ اسلامی بینکوں میں ملازمت کرنا جائز ہے؟ اور اسلامی بینکوں سے قرض لینا جائز ہے؟ جیسا کہ ایک بینک مفتی تقی عثمانی صاحب کا نام لیتا ہے، مجھے اس مسئلے کا جواب بتائیں ۔
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک اور بینک اسلامی کے تمام امور چونکہ ماہر مفتیان کرام کے شرعی ایڈوائزری کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں، اس لئے ان بینکوں میں ملازمت کرنا اور ان کے ساتھ دیگر کاروباری معاملات کرنا جائز ہے، البتہ اگر کسی معاملے میں کوئی شرعی خرابی نظر آئے یا وہاں سے جو وضاحتیں مل جائیں اگر ان میں کوئی اشکال ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ حکم شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔