اسلامی بینکاری

مروجہ اسلامی بینکوں سے قرضہ لینا - اشتراک کرنا - یا کاروبار کرنا

فتوی نمبر :
60417
| تاریخ :
2006-02-02
جدید فقہی مسائل / بینکاری / اسلامی بینکاری

مروجہ اسلامی بینکوں سے قرضہ لینا - اشتراک کرنا - یا کاروبار کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ملک میں ہر آدمی ایک ایسے جال میں دھنستا جارہا ہے کہ انسان ، بِن چاہے بھی ، اس کی اسیری پسند کررہا ہے اور بظاہر ہر کسی کو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ اس کی سہولت کے لیے بنایا گیا ہے ، اور یہ سب کچھ حکومتِ پاکستان کے ایماء پر ہورہا ہے، اس جال کا نام ’’لیزنگ‘‘ ہے، اس کے ذریعے آپ گھر ، دفتر ، گاڑی ، بنگلہ جائیداد ، موٹر سائیکل، کاروبار غرض ہر وہ چیز جو آپ کی قوتِ خرید میں نہ ہو ، آپ اس کو بذریعہ بینک ، آسان (بظاہر) ماہانہ اقساط کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں ، کیونکہ اگر ایک چیز ایک لاکھ روپے کی ہے ، اور میرے پاس یکمشت یہ رقم نہیں ، تو میں یہ چیز بینک کے ذریعے حاصل کرلوں ، اس کے بعد بینک مجھ سے میرے تمام کوائف حاصل کرے گی ، مثلاً ذریعۂ معاش ، آمدنی ، گھر کی نوعیت ، ورثاء وغیرہ ، پھر وہ مجھ سے کچھ فیصد اضافہ لگاکر میری منشاء کے مطابق (یعنی کتنے سال میں ادائیگی) اقساط بنائے گی ، کیونکہ میری آمدنی اتنی ہوگی کہ میں یہ اقساط اتارسکوں ، لہٰذا میری عرض کے مطابق اقساط بناکر مجھے دے دیںگے ، لیکن بینک زیادہ سے زیادہ اصل رقم کا (جو مجھے حاصل کرنا ہے) 80% رقم پر ، اپنے مختلف مارک اپ (سود) لگاکر ، زائد رقم آپ سے قسط کے ذریعے وصول کرتا ہے ، جبکہ بینک اپنی حفاظٹ کے لیے اس کا انشورنس بھی کرواتا ہے، اور وہ رقم بھی آپ سے لیتا ہے ، تاکہ بینک کا اپنا نقصان نہ ہو ، یہاں ایک بات کا اور تذکرہ ضروری ہے ، وہ یہ کہ تمام بینک جس میں اسلامی بینک ، میزان بینک بھی شامل ہے ، اسٹیٹ بینک سے منسلک ہیں یعنی اگر آپ کوئی بھی لون لیتے ہیں، ان کے کوائف اسٹیٹ بینک کے پاس جمع ہوتے ہیں اور تمام بینک ، اسٹیٹ بینک سے ڈھائی فیصد سود کے حساب سے رقم لیتی ہیں ، یعنی اسٹیٹ بینک ان کو 2.5% (کل رقم کا) نفع پر مطلوبہ رقم مہیا کی جاتی ہے ، اور بینک اپنے بل پر 5% سے 8% نفع پر قرضہ فراہم کرتی ہے، اگر آپ نے ایک قسط بھی وقت پر ادا نہ کی ، تو آپ پر جرمانہ لگتا ہے ، جو کہ قرض والی رقم نفع کا جو Amount مقدار بنتی ہے ، اس پر ہوتا ہے (اگر آپ نے کچھ قرضہ اتاردیا ہو ، تو بقایا رقم پر اطلاق ہوتا ہے)۔
میزان بینک جو اسلامی بینکینگ کا دعویدار ہے ، ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر ہم جرمانہ نہ لگائیں ، تو لوگ مکمل پابند نہیں ہوسکتے ، اور یہ رقم جو جرمانہ کی مد میں حاصل ہوتی ہے اس کو بینک کی شوریٰ (خاص عہدیداران کی انتظامیہ) اس رقم کو کسی خاص چیز پر خرچ کرتی ہے ، جبکہ بینک کے کسی بھی مصرف میں استعمال نہیں ہوتی ، حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر کوئی شخص کسی دوسرے بھائی کو قرضہ دے ، تو اپنے بھائی کو مکمل رعایت دے ، اور اس رعایت یا احسان کا ، اللہ مکمل ، بلکہ بھرپور انعام دے گا ، کیونکہ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، کیونکہ مالکِ کائنات کے احسان کو کتنا جھٹلاسکتے ہیں اور مالک کا بندہ اس کی مخلوق پر احسان کرے تو رحمتِ الٰہی بہت خوش ہوجاتی ہے، لیکن ہم کس طرح اسلامی بینک کو اسلامی کہہ سکتے ہیں ، بلکہ اس طرح کہیں کہ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ حکومتِ پاکستان ، کہاں تک اسلامی نظام پر عمل کرتی ہے ، جب حکومت کا یہ حال نہیں تو ان بینک سے کیا توقع کرسکتے ہیں۔
میری ناقص معلومات کے مطابق تمام بینک ، جو بھی قرضہ دیتی ہیں، اس کی کم از کم معیاد تین سال سے بیس سال تک ہے (مختلف چیزوں پر) اگر آپ نے قرضہ دس سال کیلئے حاصل کیا ہے اور ڈیڑھ یا دو سال میں اگر کوئی ایسے وسائل پیدا ہوگئے کہ آپ یکمشت بقایا رقم فوراً واپس کرنے کے قابل ہوگئے، تو آپ جب رقم واپس کریں گے تو بھی کچھ جرمانہ (اسٹیٹ بینک کے نئے قوانین کے تحت) یا کچھ اضافی رقم مزید آپ کو ادا کرنی ہوگی ، کیونکہ ایسا کرنے پر بینک کو مالی نقصان ہوتا ہے ، کیونکہ وہ آپ سے کاروبار کرارہی ہے اور کچھ نفع کی مقدار ، جو آپ کو قرضہ دینے پر بینک کو حاصل ہوتا تھا ، وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوسکا ، اس لئے یہ قانون بنایا گیا ہے۔
جناب مفتی صاحب!
ان مندرجہ بالا باتوں کو لکھنے کا مقصد اس لئے تھا کہ کوئی مسئلہ بغیر وضاحت کے معلوم کرنے سے غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے , کیونکہ سائل اپنے ذہنی تناظر میں اپنا مسئلہ پیش کرتا ہے ، ممکن ہے اس تحریر میں غلطیاں زیادہ ہوں , لیکن لکھنے کا مقصد خالصتاً مسئلہ کی نشاندہی ہے ، کیونکہ اگر مجھے گھر خریدنا ہے اور میری طاقت اتنی نہیں کہ میں اپنی مرضی کا گھر خرید سکوں ، میں کرائے کے مکان میں جتنی رقم ادا کرتا ہوں , اگر اس طرح (بینک کے ذریعے) رقم حاصل کرکے اتنی ہی قسط ادا کروں جتنی میں کرایہ کی رقم میں ادا کرتا ہوں , تو چند سالوں بعد میں گھر کا مالک بن سکتا ہوں , حالانکہ کرائے کے گھر میں کبھی بھی مالک نہیں بن سکتا ، اس لالچ میں آج ملک کی ہر عوام لگی ہوئی ہے ، یہ ایسی برائی ہے جس کا روکنا اشد ضروری ہے , کیونکہ اگر واقعی یہ عمل غلط ہورہا ہے تو ہم بحیثیتِ مسلمان , اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اصل حقائق سے لوگوں کی رہنمائی کریں ، میرے بہت سے ساتھی، دوست، رشتہ دار غرض ملک کے کئی لوگ اس کو درست سمجھ کر کام سرانجام دے رہے ہیں ، اس وجہ سے کہ کچھ علماء کرام کی نظر میں یہ عمل جائز ہے ، اور کچھ علماء اس سے اختلاف کرتے ہیں , لیکن مجھے مکمل تسلی نہیں ہوئی ہے ، لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ چند مسائل کے جواب مطلوب ہیں , ان کو مکمل قرآن و حدیث کی روشنی میں فتویٰ کی صورت میں تحریر کردیں , تا کہ مکمل آگاہی ہوسکے:
(۱) قرضہ کن اسلامی اصول کے مطابق لینا چاہئے؟
(۲) مذکورہ لیزنگ جو تمام بینک کررہی ہیں، کہاں تک صحیح ہے؟
(۳) چونکہ بینک سود کے نظام کو پروان دیتا ہے ، تو یہ کام کہاں تک درست ہے؟
(۴) اگر اسلامی بینک بالخصوص ’’میزان بینک‘‘ یہ کام سرانجام دیتا ہے ، تو اس بات میں کتنی سچائی ہے کہ یہ سود کے زمرے والا کام سرانجام نہیں دیتا ؟
(۵) لیکن اگر کسی بھی طرح سے ’’میزان بینک‘‘ بالواسطہ یا بلاواسطہ سود کے لین دین کے کاروبار سے منسلک ہے ، تو اس کو اسلامی بینک کا درجہ کیوں دیا گیا؟
(۶) اگر کچھ کاروباری حضرات اور دکان دار ، ضرورت کی اشیاء قسطوں پر دیتے ہیں تویہ کام صحیح ہے؟
(۷) اگر کوئی چیز میں ، دس ہزار میں خریدوں اور اس کو بارہ ہزار میں بیچوں اس شرط پر کہ ایک ہزار روپیہ ماہانہ وصول کرکے بارہ ماہ میں یہ رقم وصول کروں گا ، توآیا یہ دو ہزار روپیہ ، جو میں وصول کررہا ہوں ، یہ سود تو نہیں؟
(۸) نقد خرید اور ادھار خرید کی قیمتوں میں فرق ہوتا ہے ، یعنی نقد خریدنے میں رعایت مل جاتی ہے اور اُدھار پر زائد رقم (اصل سے) ادا کرنی پڑتی ہے، تو یہ زائد رقم سود ہے؟
(۹) اگر یہ تمام کام سود ہیں، تو بینک اور اس کاروبار میں کیا فرق ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) اسلامی اصولوں کے مطابق ، قرضہ کی صرف یہ صورت ٹھیک ہے کہ قرض پر کسی قسم کا نفع نہ لیا جائے ، ورنہ سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہوجائے گا۔
(۲) مروجہ لیزنگ ،جو عام بینک کررہے ہیں اس میں شرعاً کئی خرابیاں ہیں جن میں سے چند درجِ ذیل ہیں:
اوّل یہ کہ لیزنگ میں ہی بیچنے کی شرط ہوتی ہے ۔
دوسری یہ کہ لیزنگ کی مدت ختم ہونے کے بعد ،باقاعدہ بیع کا معاملہ نہیں کیا جاتا ، بلکہ خود بخود ملکیت منتقل ہوجاتی ہے ۔
تیسری یہ کہ اس میں کرایہ معاہدہ کے دن سے شروع ہوجاتا ہے نہ کہ چیز سپرد کرنے کے دن سے ۔
چوتھی یہ کہ مشینری وغیرہ کی خرابی کی صورت میں سارا نقصان مستأجر کو برداشت کرنا پڑتا ہے ، جبکہ اسلامی بینک میں اگریہ خرابیاں نہ ہوں ،تو وہ اجارہ بلاشبہ جائز ہے۔
(۳) سودی معاملہ چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو ، نصوصِ شرعیہ صریحہ کے بناء پر حرام ہے ، جس سے احتراز لازم اور واجب ہے۔
(۴،۵) میزان بینک یا کسی بھی دوسرے بینک کا یہ دعویٰ کرنا کہ وہ اسلامی بینکاری کررہا ہے، اس بنیاد پر ہے کہ ان کے کام کی نگرانی علماء کرام کررہے ہیں ، اور ان کا کام قرض کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ عقودِ شرعیہ (مشارکۃ، مضاربۃ ، اجارہ ، مرابحہ مؤجلہ) کی بنیاد پر ہوتا ہے ، جبکہ ان کے کسی معاملہ کے بلاسود ہونے کے بارے میں جب ہی بتایا جاسکتا ہے جب ان سے کوئی معاملہ کیا جائے تو اس کی تمام تفصیلات معلوم کی جائیں۔
تاہم یہ بات یاد رکھیے کہ سود کا معاملہ اگر کوئی اسلامی بینک سر انجام دے یا غیر اسلامی بینک ، یا کوئی دوسرا ادارہ وغیرہ ، پھر یہ معاملہ بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ بہر صورت حرام ہی رہے گا ، اس لئے ان بینکوں سے کسی قسم کا معاملہ کرنے سے پہلے اس کی پوری تفصیل معلوم کرکے معتمد علماءِ کرام سے ، اس کے غیر سودی ہونے کی تسلی کرلینا ضروری ہے۔
(۶ تا ۹) اس سلسلہ میں واضح ہو کہ کسی شئی کی قسطوں میں یا یکمشت ادھار کی صورت میں ، خرید و فروخت کرنے کی وجہ سے ، نقد معاملہ کے مقابلہ میں جو زائد رقم لی جاتی ہے ، اگر درجِ ذیل شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے یہ معاملہ کیا جائے ، تو اس صورت میں اس زائد رقم کا لینا اور دینا بلاشبہ جائز اور درست ہے ، اور یہ معاملہ بینک کرے ، کوئی دوسرا ادارہ کرے یا کوئی بھی خرید و فروخت کرنے والے باہم یہ کریں ، یہ شرعاً بھی جائز ہوگا ، اور وہ شرائط یہ ہیں:
(1) نقد یا اُدھار خرید و فروخت کا معاملہ ایک ہی یعنی پہلی مجلس میں طے ہوجائے۔
(2) کل قسطیں طے ہوجائیں۔
(3) اور ہر قسط میں رقم کی مقدار بھی طے ہوجائے ۔
(4)اور یہ کہ اگر کوئی قسط کسی وجہ سے لیٹ یعنی مؤخر ہو جائے تو اس پر مزید کوئی جرمانہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی لسان العرب : الربا ربوان و الحرام کل قرض یوخذ بہ اکثر منہ ، او یجرُّ بہ منفعۃ۔(ماخوذ مسئلہ سود: ص۳۰)۔
و فی المبسوط : و اذا عقد العقد علی انہ الی اجل کذا بکذا و بالنقد بکذا او الی شہر بکذا او الی شہرین بکذا فہو فاسد لانہ لم یعاملہ علی ثمن معلوم و نہی النبی ﷺ عن شرطین فی بیع و ھذا ہو تفسیر الشرطین فی بیع و مطلق النہی یوجب الفساد فی العقود الشرعیہ و ھذا اذ افترقا علی ہذا ، فان کان یتراضیان بینہما و لم یتفرقا حتی قاطعہٗ علی ثمن معلوم و اتما العقد علیہ فہو جائز لانہما ما افترقا الا بعد تمام شرط صحۃ العقد۔(ج۱۳، ص۸)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60417کی تصدیق کریں
1     5303
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بینک سے قسطوں پر گاڑی لینے کی شرائط

    یونیکوڈ   اسکین   اسلامی بینکاری 1
  • میزان بینک کے ساتھ ، ہر قسم کے مالی معاملات کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • میزان بینک میں انوسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • میزان بینک سے گھر تعمیر کرنے کیلئے قرض لینا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 8
  • بینک الفلاح اسلامک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • "فرسٹ پنجاب مضاربہ بینک" سے لون لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل شدہ منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • خیبر بینک سےمتعلق سوال

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • مروجہ اسلامی بینکوں سے قرضہ لینا - اشتراک کرنا - یا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • میزان بینک کے سیوئنگ اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرنا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ اور منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • اسلامی بینکوں میں ملازمت اور ان سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • اسلامی بینک کے ذریعہ منافع کمانا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • Ruling on Meezan Banks car financing

    یونیکوڈ   انگلش   اسلامی بینکاری 0
  • مروجہ اسلامی بینکوں کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • Ruling regarding savings accounts on Islamic Banks

    یونیکوڈ   انگلش   اسلامی بینکاری 0
  • میزان میں پیسے رکھ کر منافع کمانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • اسلامک بینک میں انویسٹمنٹ کرکے منافع لینا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • اسلامی بینک کے ذریعہ منافع کمانے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • میزان بینک کے "ماہانہ آمدنی"پروگرام میں انویسٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
Related Topics متعلقه موضوعات