کیا ہم غیر ملکی (غیر مسلم) کمپنیوں میں کام کر سکتے ہیں ؟ (۲) یہ بھی بتائیے کہ کیا ہم ان کمپنیوں میں کام کر سکتے ہیں جو بینک کے قرضوں سے چلتی ہیں ؟ کیا اسلام میں یہ درست ہے ؟
ایسی غیر مسلم کمپنی جس میں اشیاء ضرورت یا ایسی چیزیں تیار ہوتی ہوں جن کا استعمال جائز ہے تو ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا شرعا اگرچہ درست ہے، تاہم ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ حتی الوسیع کسی کافر کے تابع ہو کر کام کرنے سے پر ہیز کرے اور اگر اس میں شراب یا اس جیسی دیگر ایسی حرام اشیاء تیار کی جاتی ہوں جو بعینہ استعمال ہوتی ہیں تو اس میں ملازمت درست نہیں۔
اگر چہ کوشش تو یہی ہونی چاہیے کہ ایسی کمپنیوں میں ملازمت سے احتراز کیا جائے اور اگر مجبوراً کسی ایسی کمپنی میں ملازمت کی جائے جس کے سودی معاملات کی رقم اصل سرمایہ کے مقابلہ میں چالیس فیصد یا اس سے بھی کم ہوں تو اس کی گنجائش ہے ۔ اور اگر ایسی کمپنی میں ملازمت کو ترجیح دی جائے جو سودی لین دین بالکل نہ کرتی ہو تو یہ بہر حال بہتر اور جائز ہے۔
ففي الهندية : وإذا استأجر الذمي مسلما ليحمل له ميتة أودما يجوز عندهم جميعا ( الی قولہ) ولو استأجره ليبيع له ميتة لم يجز هكذا في الذخيرة. الخ (4/450)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0