کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) میں گورنمنٹ آفس میں ٹائیپیسٹ کی حیثیت سے کام کرتا ہوں ، میرے سیکشن میں ٹائیپیسٹ اکیلا میں ہوں ، چھٹی کرنے پر آفس والوں کو پریشانی ہوتی ہے ، ہر ماہ تبلیغ کے سلسلے میں دو تین چھٹیاں کرتا ہوں اور سال میں پینتالیس چھٹیاں ہوتی ہیں وہ بھی ہر سال کرتا ہوں ، اگر چھٹیوں کے پیسے لوں اور چھٹیاں نہ کروں تو چوبیس سو روپے ، تیس دن کے ملیں گے ، میں اپنی چھٹیاں منظور نہ کراؤں اور کسی لڑکے ٹائیپیسٹ کو اپنی جگہ بٹھاؤں اور تنخواہ اس کو دوں دو ہزار ، یا آفیسر سے کہوں کہ وہ کسی کو میری جگہ رکھ لیں اور میں تنخواہ دوں آفیسر رکھے یا نہ رکھے ، کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟ کیا یہ طریقہ جائز ہے؟ کیونکہ چھٹی کرنے پر آفیسر نخرے بہت کرتا ہے۔
(۲) بونڈ رکھنا یا انعام حاصل کرنا صحیح ہے یا نہیں؟
(۳) مساجد کے خطیب اکثر حکومت کے متعلق اخبارات یا کہیں سے سن کر حکومت کے خلاف بیان کرتے ہیں ، یہ غیبت میں شمار ہوتا ہے یا تہمت میں ؟ اور ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟
(۱) اگر سائل کی مذکور طریقے سے چھٹیاں کرنے سے واقعۃً آفس والوں کو پریشانی ہوتی ہو ، تو اسے چاہئے کہ بیرون شہر کام کی بجائے مقامی تبلیغی کام کو زیادہ ترجیح دے اور بوقتِ ضرورت کام سے جڑا رہنے کیلئے اگر کبھی چھٹی کی ضرورت ہو اور اس صورت میں وہ مجاز افسران کی اجازت سے دوسرا آدمی اپنی جگہ کام کرنے کیلئے دے دے تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے۔
(۲) انعام کی غرض سے بونڈ حاصل کرنا اور اس پر انعام وصول کرنا قطعاً ناجائز اور حرام ہے ، جس سے احتراز واجب ہے۔
(۳) اگر وہ بات واقعۃً اہلِ حکومت میں پائی جاتی ہو اور اس کے مضمرات لوگوں پر واضح نہ ہوں ، تو اپنے مقتدیوں کو ان مضمرات سے بچانے کیلئے اپنی تقریر میں انہیں آ گاہ اور بیدار کرنا نہ غیبت کے زمرے میں آ تا ہے اور نہ تہمت ، بلکہ اس طرح کرنا شرعاً جائز اور درست ہے اور ایسے امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا بھی بلا کراہت جائز اور درست ہے۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0