کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں ایک کمپنی میں پندرہ سو ریال تنخواہ پرملازمت کرتا ہوں، مجھ سے کمپنی کے مالک نے کہا کہ آپ میری کمپنی کے لۓ دوسرے ملازم لے آئیں، تو میں ان مزدوروں اور ملازمین کو بھی پندرہ سو ریال پر رکھوں گا، اور تمہیں بھی اس کام پر تنخواہ کے علاوہ الگ سے کچھ رقم دونگا، اب اس میں دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ فی ملازم مخصوص رقم پہلی دفعہ دی جائے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ جب تک وہ ملازم کام کرے، تو ہر مہینہ وہ مخصوص رقم دی جائے، سوال یہ ہے کہ آیا یہ دونوں صورتیں جائز ہیں یاکوئی ایک صورت؟ براہِ کرام قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سائل اگر مذکور کمپنی کو ملاز مین فراہم کرنے اور کمپنی کی طرف سے ملازم فراہم کرنے پر سائل کو تنخواہ کے علاوہ مخصوص رقم (مثلاً پچاس یا ستر، اسی وغیرہ ریال) دی جائے، تو شرعاً ایسا کر نادرست ہے، اور سائل کے لۓ وہ رقم لینا جائز اور حلال ہوگا، لیکن اس کام پر صرف ایک دفعہ مخصوص رقم دینا کمپنی کے مالک پر لازم ہو گا، ہر مہینہ اس مخصوص رقم کی ادائیگی کمپنی کے مالک پر شرعاً لازم نہ ہو گی اور نہ ہی سائل کے لۓ اس رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہوگا۔
كما فی حاشية ابن عابدين: وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام اھ(6/ 63)۔
وفی الجوهرة النيرة ( قوله : ولا يصح حتى تكون المنافع معلومة ، والأجرة معلومة ) لأن الجهالة في المعقود عليه وبدله يفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن اھ(3/3)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0