السلام علیکم
حضرت مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی ادارہ نے یہ اصول رکھا ہو کہ ملازمین کو ادارہ چھوڑنے سے ایک مہینہ پہلے اطلاع کرنا ضروری ہے۔اور اگر کوئی اطلاع نہیں کرتا تو اسکے سابقہ معاوضات جو بقیہ ہوں گے وہ ضبط کرلیے جائیں گے۔
کیا یہ معاوضات ضبط کرنا جائز ہے؟
کسی ادارے یا کمپنی کا ملازم کو ملازمت چھوڑنے کی صورت میں ایک پہلے اطلاع دینے کا پابند بنانا شرعا درست ہے، اور ملازم پر حسب معاہدہ اس ضابطہ پر عمل کرنا بھی شرعا لازم ہے، تاہم اگر ملازم خلاف ضابطہ اطلاع دیے بغیر کام چھوڑ کر چلا جائے، تو محض اس وجہ سے ادارے کا ملازم کی تنخواہ سے رقم ضبط کرنا "تعزیر بالمال" (مالی جرمانہ) ہے، جوکہ جمہور فقہاء کرام کے نزدیک جائز نہیں ہے، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے، تاہم اگر اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے ادارےکا کوئی حقیقی نقصان ہوا ہو، تو اس نقصان کے بقدر ملازم سے تلافی کروائی جاسکتی ہے۔
وفی اعلاء السنن:
"التعزیر بالمال جائز عند أبی یوسف، وعندہما وعند الأئمۃ الثلاثۃ لایجوز، وترکہ الجمہور للقرآن والسنۃ : وأما القرآن فقولہ تعالی :{فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم} ۔ وأما السنۃ فإنہ علیہ السلام قضی بالضمان بالمثل ولأنہ خبر یدفعہ الأصول فقد أجمع العلماء علی أن من استہلک شیئاً لم یغرم إلا مثلہ أو قیمتہ"
(ج11، ص733، باب التعزیر بالمال،ط۔ بیروت)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0