میں نیسلے کمپنی میں بطور مرچنڈائزر کام کرتا ہوں، کیا نیسلے کمپنی کے لیے کام کرنا جائز ہے؟ کہا جاتا ہے کہ یہ یہودی کمپنی ہے، راہ نمائی فرمائیں۔ شکریہ!
مذکور نیسلے کمپنی اگرچہ یہودیوں کی ہو ، لیکن کمپنی ملازمین کو اگر کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑھتا ہو ،اور نہ کمپنی کا سرمایہ امتِ مسلمہ کے خلاف سازشوں میں صرف ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں مذکور کمپنی میں ملازمت کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
ففی بدائع الصنائع: فتجوز الإجارة والاستئجار من المسلم، والذمي، والحربي المستأمن لأن هذا من عقود المعاوضات فيملكه المسلم، والكافر جميعا كالبياعات، غير أن الذمي إن استأجر دارا من مسلم في المصر فأراد أن يتخذها مصلى للعامة ويضرب فيها بالناقوس له ذلك، ولرب الدار وعامة المسلمين أن يمنعوه من ذلك على طريق الحسبة لما فيه من إحداث شعائر لهم وفيه تهاون بالمسلمين، واستخفاف بهم كما يمنع من إحداث ذلك في دار نفسه في أمصار المسلمين ولهذا يمنعون من إحداث الكنائس في أمصار المسلمين (إلی قوله) لكن قيل إن أبا حنيفة إنما أجاز ذلك في زمانه؛ لأن أكثر أهل السواد في زمانه كانوا أهل الذمة من المجوس فكان لا يؤدي ذلك إلى الإهانة، والاستخفاف بالمسلمين اھ (۱/ ۱۷۶) واللہ أعلم بالصواب!
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0