اسلام و علیکم جناب!
میں ایک گورنمٹ ملازم ہوں، اورمیرا مہانہ ایک ہزار سے دو ہزار جی پی فنڈ کاٹا جاتا ہے ،پھر سالانہ اس پر منافع ملتا ہے،سوال یہ ہے کہ کیا یہ منافع میرے لیے لینا جائز ہے یا نہیں؟
نوٹ : اکاونٹ آفس میں یہ آپشن بھی موجود ہے کہ، آپ منافع لیتے ہیں یا نہیں ؟مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں ! اللہ پاک آ پ کو اور آپ کے بچوں کو سلامت رکھے !آمین۔ العارض حافظ سلطان خان
اگر کمپنی کی طرف سے پراویڈنٹ فنڈ کی پالیسی لازمی اور جبری ہو ، تو ایسی صورت میں تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے ، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، شرعا ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں درحقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگرچہ سود یاکسی نام سے دی جائیں، لیکن سائل کے لیے اس کے لینے کی گنجائش ہے، تاہم اگر سائل کو یقین ہو کہ، کمپنی یہ رقم سودی بینک میں رکھوا کر سودی رقم سے منافع دے رہی ہے، تو اس کے لینے سے احتیاط کرنا بہر حال بہترہے۔
البتہ اگر کمپنی کی طرف سے یہ پالیسی لازمی نہ ہو ، اور ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے یہ پالیسی لیتا ہو ،تو پھر اس پر ملنے والی اضافی رقم تشبہ بالربا کی وجہ سے ملازم کا اسے لینا درست نہ ہوگا۔
کما فی البحر: (والاجرۃ لا تملک بالعقد) (إلی قولہ) (بل بالتعجیل أو بشرطہ أو بالاستیفاء أو بالتمکن) یعنی لا تملک الاجرۃ الا بواحد من ھذہ الاربعۃ والمراد انہ لا یستحقہا المؤجر الا بذالک اھ ((۷/ ۳۰۰)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0