مفتی صاحب !ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ میں ایک میڈیکل ا سٹور میں کام کرتا ہوں، ایک کیلشم (DCP) وہ ہم منگواتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں، اب یہ مثلاً دکان کے لئے میں نے منگوایا ،اس کی قیمت 2300 روپے فی کلو ہے، اور آگے ہم 3000 یا زیادہ سے زیادہ 3500 تک فروخت کرتے ہیں، اب اگر یہ کیلشم میں اپنے لئے بجائے 3500 کے 4000 پر فروخت کردوں، تو یہ 500 میرے لئے حلال ہے یا نہیں؟ اور جو ہم منگواتے ہیں تو پیسے دکان(میڈیکل) کے دیتے ہیں، میری ذاتی رقم نہیں، دوسرا یہ کہ دکان کے مالک کی طرف سے بھی کوئی قیمت متعین نہیں کہ اس پر فروخت کروں، مثلاً 3000 پر فروخت کروں یا 3500 میں، خلاصہ یہ ہے کہ میں اس کی ایک قسم کی مارکیٹنگ کرتا ہوں، آگے فارم والوں سے بات کرتا ہوں یا زمینداروں سے اور ان پر مثلاً 4000 میں فروخت کرتا ہوں، یہ میڈیکل سٹور جانوروں کا ہے، رہنمائی فرمائیں!
نوٹ:سائل میڈیکل اسٹور پر مزدور ہے،اور سائل کی تنخواہ مقرر ہے، کیا سائل تنخواہ کے علاوہ دوائیوں میں سے اس طرح اپنے لئے پیسے لے سکتا ہے؟
سوال میں درج تفصیل کے مطابق سائل چونکہ مذکور میڈیکل اسٹور میں ملازم ہے، لہذا مالک کی اجازت اور اس کے علم میں لائے بغیر مذکور کیلشم چار ہزار کا فروخت کرکے پانچ سو روپے اپنے لۓ رکھنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ دھوکہ دہی اور خیانت پر مبنی عمل ہے جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيها الناس، إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: ((يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا، إني بما تعملون عليم)) وقال: ((يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم ))ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك؟ اھ (ج2، ص703، ط: دار احیاء التراث)۔
وفی صحیح مسلم:عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: "أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني"(رقم الحدیث102،ج1،ص99،ط:دار إحياء التراث)۔
وفی رد المحتار تحت:(قوله دفعا للغرر) قال الباقاني،لأنه يؤدي إلى تغرير الآمر حيث اعتمد عليه الخ(کتاب الوکالۃ،ج5،ص518،ط:سعید)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0