کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص محکمۂ موسمیات میں نوکری کرتا ہو تو اس کے لیےیہ ملازمت جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ وہ ایسی باتیں بتاتے ہیں جس کا علم صرف اللہ کو ہے اور اسی کو اختیار ہے۔
مذکورہ محکمے والے بعض آلات اور حسابات کے ذریعہ تخمینی طور پر پیشن گوئی کرتے ہیں، اور یہ علمِ غیب نہیں، بلکہ تخمینہ ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے اور واقع کے مطابق بھی، لہٰذا اسے غیب سمجھنا اور پھر اس کو بنیاد بنا کر مذکور محکمہ کی ملازمت کو ناجائز قرار دینا درست نہیں جس سے احتراز چاہیے۔
ففی تفسير روح المعاني: تحت الآیة: قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ (10/ 222)۔
و فی تفسير روح المعاني: و أقوى ما عنده معرفة زمني الكسوف و الخسوف و أزمنة تحقق النسب المخصوصة بين الكواكب و هي ناشئة من معرفة مقادير الحركات للكواكب و الأفلاك الكلية و الجزئية و هي أمور محسوسة تدرك بالأرصاد و الآلات المعمولة لذلك، وبالجملة علم الغيب بلا واسطة كلا أو بعضا مخصوص بالله جل و علا ، لا يعلمه أحد من الخلق أصلا اھ(10/ 223)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0