میں پو لینڈ ملک میں ٹیک اوے (ریسٹو رنٹ) پر کام کر تا ہوں اور وہ لوگ جھٹکے کا چکن اور بیف استعمال کر تے ہیں کیا اس سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہے یا نہیں؟جو ان کا ما لک ہے وہ مسلمان ہے
واضح ہو کہ جھٹکے سے مارے جانے والی مرغیوں اور جانوروں کو اگر باقا عدہ شر عی طریقے کے مطابق ذبح نہ کیا جارا ہو بلکہ جھٹکے سے ہی ان کی موت واقع ہو جاتی ہو تو ایسی صورت میں ایسے جانوروں اور مرغیوں کا گو شت استعمال کر نا جائز نہیں اور اس سے حاصل شدہ آمدنی بھی حرام ہو گی ،لہذا مذکور ریسٹورنٹ کی اگر کل یا غالب آمدنی جھٹکے سے مارے جانے والی مر غیوں اور جانوروں سے حاصل شدہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے وہاں ملا زمت اختیار کر نا درست نہیں بلکہ سائل کو چاہیئے کہ اسکے علا وہ کو ئی جائز اور حلال ملازمت تلاش کرے ،البتہ اگر مذکور ریسٹورنٹ مالکان کی اسکے علاوہ بھی کوئی ذریعہ آمدنی ہو اور وہ جھٹکے سے مارے جانے والے جانوروں کی آمدنی کے مقابلے میں زیادہ بھی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے وہاں ملازمت اختیار کر نے اور اس سے حا صل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجا ئش ہوگی۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0