مفتی صاحب مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ میں ایک بینک میں ایڈیٹر کی جاب کرتی ہوں اور وہاں سے مجھے ٹوٹل ۲۷۰۰۰ روپے ملتے ہیں اور میرے والد جوبلی لائف انشورنس میں کام کرتے ہیں بطور ایڈمنسٹریشن آفیسر کے، وہاں سے انہیں ۱۵۰۰۰ روپے ملتے ہیں، پورا گھر ہم دونوں کی سیلری سے چل رہا ہے، دو چھوٹی بہنیں پڑھ بھی رہی ہیں، لوگ کہتے ہیں بینک کی جاب حرام ہے اور شاید اس وجہ سے ہمارے ہاں برکت بھی نہیں اور دعا بھی قبول نہیں ہوتی، لیکن ہم میں سے کوئی بھی اگر جاب چھوڑتا ہے تو گھر چلانا مشکل ہوجاتا ہے اگرچہ ابھی جتنا آرہا ہے اس میں بھی گھر نہیں چل پارہا ہے، آپ کی رہنمائی چاہئے کہ اس صورت حال میں کیا کرنا چاہئے؟ کیونکہ حرام بھی دل برا مانتا ہے اور حلال کی تلاش بھی کرتے ہیں لیکن مل نہیں پاتی اور اگر کچھ ملتی ہے تو اتنی کہ سیلری کا سوچ کے بھی گھر کا خرچہ پورا ہوتا نظر نہیں آتا، اس صورت میں ہمارے دین میں کیا احکام ہیں؟ شکریہ
بینک اور انشورنس کا بیشتر کاروبار چونکہ سود پر مبنی ہوتا ہے اس لئے انشورنس کمپنی کی مذکور قسم کی ملازمت جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
تاہم جب تک دوسری جائز اور حلال ملازمت نہ ملے اس وقت تک سائلہ اور اس کے والد اپنی مذکور ملازمتوں کو جاری رکھ سکتے ہیں لیکن دوسری جائز ملازمت کی تلاش اور جستجو ایسی ہونی چاہئے جیسے ایک بے روزگار شخص کرتا ہے اور جب دوسری جائز ملازمت مل جائے تو اس وقت فوراً اس ملازمت کو ترک کردیا جائے۔
فی الصحیح للامام مسلمؒ: لعن رسول اللہ ﷺ اکل الربٰو وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء۔ الخ (ج۲، ص۲۷)۔
وفی تکملۃ فتح الملہم (قولہ وکاتبہ) لأن کتابۃ الربٰو اعانۃ علیہ ومن ہنا ظہر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز، فان کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربٰو کالکتابۃ أو الحساب فذالک حرام بوجہین، الاول اعانۃ علی المعصیۃ والثانی اخذ الاجرۃ من مال الحرام۔ الخ (ج۱، ص۶۱۹) واللہ اعلم بالصواب
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0