کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم اہلِ محلہ والوں نے’’ اربابان‘‘ محلہ کی سربراہی میں ۲ سال قبل اپنے جامع مسجد کے لۓ ایک قاری صاحب کی ، بطورِ امام وخطیب ایک سالہ مدّت کے لۓ تقرری کی ، اور محلہ کے تمام باشندگان اتفاق وہمبستگی سے اس امام کی اتباع میں نمازیں ادا کر نے لگے ، اور ایک سال کی مدت پوری ہونے کے بعد جب اہلِ محلہ نے چاہا کہ ان کو جواب دیکر رخصت کر دیں تو امام صاحب نے جانے سے منع کیا اور محلہ کے چند افراد بھی اس کی طرف داری میں آگئے اور دوبارہ اس شخص کی تقرری کے لۓ بضد ہو گئے ، تو محلہ والوں نے آپس کی انتشار اور تفرقہ سے بچنے کےلۓ مجبوراً مزید ایک سالہ مدت کے لۓ اس شرط کے ساتھ دوبارہ اس امام کا تقرر کیا کہ سال کی مدت پورا ہونے کے بعد ہم تمام محلہ والے متفقاً اس امام صاحب کو رخصت کریں گے ، اب اس سال جبکہ اس کی ذمہ داری اور معاہدہ کی مدت پوری ہوگئی تو محلہ کے عزت دار افراد نے اجتماعی شکل میں امام صاحب کے پاس حاضری دی اور ان کو بطور خوش اسلوبی رخصت ہونے کا کہا ، تو امام صاحب نے جانے سے پھر منع کر دیا اور کہنے لگا کہ مجھ میں تو شرعی اعتبار سے کوئی فسق و فجور یا کوئی کوتاہی نہیں، میں پھر کیوں امامت چھوڑدوں اور محلہ کے چند افرا د جو اس امام کے رکھنے پر پہلے بھی بضد تھے ان کا حوالہ دے کر کہا کہ آپ لوگ جا کر ان لوگوں سے بات کرو ، میں تو نہیں جاؤں گا ، امام کی اس عمل کی وجہ سے محلہ کے اکثر مستقل نمازی حضرات نے اس مسجد میں آنا بند کر دیا اور تمام محلہ والوں کے درمیان انتشار اور تفرقہ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، نیز محلہ کے کئی افراد کو امام سے کچھ مسائل پر شرعی اعتراضات بھی ہے، مثلاً امام صاحب نے رمضان کے روزے عید الفطر سے ایک دن قبل افطار کی تھی، جبکہ عید محلہ والوں کے ساتھ اگلے دن منائی، اسی طرح محلہ کے لوگوں کا امام کی قراءت کے متعلق یہ اعتراض ہے کہ امام خوش الحان ہے، لیکن قراءت قرآن میں اکثر فجر یا دیگر نمازوں میں ان سے بکثرت غلطیاں ہوتی ہیں ، تو براہِ کرم ہمارے درمیان کے ان کشیدہ حالات کو مدِ نظر رکھ کر شرعی اعتبار سے ہماری راہ نمائی فرمائیں کہ کیا مقررہ مدت کی پوری ہونے کے بعد بھی امام کے لۓ زبردستی اپنی امامت پر قائم اور قابض رہنا جائز اور مناسب ہے؟ بالخصوص جبکہ امام کے اس عمل کی وجہ سے محلہ والوں کے درمیان انتشار اور تفرقہ پیدا ہو ،اور لوگ دو حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جائیں، نیز کیا مقررہ مدت کے پورا ہونے پر اہلِ محلہ کے سربراہان کو ایسے اجیرِ خاص امام کو برطرف کرنے کا شرعاً حق ہیں؟ جبکہ اہلِ محلہ ہی مسجد کے بانیوں میں سے بھی ہیں؟ المستفتی :محلیانِ جامع مسجد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
امام کو ایک سال کے کنٹریکٹ پر رکھنے کی بات سمجھ سے باہر ہے ، تاہم اگر واقعۃً مسجد کمیٹی نے امام کو رکھتے وقت اس کے ساتھ ایک سالہ معاہدہ کیا تھا ، اب سال مکمل ہونے کے بعد چونکہ معاہدے کا وقت بھی ختم ہو جاتا ہے، اس لۓ اہلِ محلہ اور مسجد کمیٹی اگر امام کی خدمات سے مطمئن نہ ہوں تو اس کو اس منصب سے علیحدہ بھی کر سکتے ہیں، مگر بلاوجہ اور کسی شرعی عذر کے بغیر امام کو اس منصب سے ہٹانا امام اور منصب دونوں کی اہانت ہے ، اور یہ شرعی اعتبار سے درست بھی نہیں، اور پھر امام جو کہ ایک عالمِ دین اور لوگوں کا دینی مقتداء ہوتا ہے، اس کو ایک ادنیٰ ملازم سمجھنا اور اس کے ساتھ ایک ادنیٰ ملازم جیسا سلوک کرنا بھی دینی کام کرنے والوں کو بے اہم کرنے کے مترادف ہے، جس سے اہلِ محلہ اور کمیٹی کو احتراز کرنا چاہیۓ۔
و فى بذل المجهود : عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما أن رسول اللہ كان يقول : ثلاثة لا يقبل الله منهم صلاة من تقدم قوماً و هم له كارھون اھ(1/ 331)۔
و فى الدر المختار : (و لو أم قوما و هم له كارهون إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما و هم له كارهون و إن هو أحق لا) و الكراهة عليھم اھ(1/ 559)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0