محترم و مکرم مفتیان عظام! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته !
ایک خاتون کو استحاضہ کی اور لیکوریا کی بیماری لاحق ہے ،لیکوریا کارنگ اکثر زردہی رہتا ہے ۔حیض کے ایام کتنے تھے یہ یاد /معلوم نہیں ۔21 جولائی کو عصر کے وقت میں Bleeding start ہوئی ، 30 یا 31 جولائی کوBleeding رک گئی۔13 اگست کوپھرسے بلیڈنگ سٹارٹ ہوکر 19 اگست تک رہی۔اسکے بعد 3 ستمبر سے ظہر کے وقت میں بلیڈنگ سٹارٹ ہو کر 10 ستمبر تک رہی۔مذكوره خاتون کے کون سے ایام حیض کے اور کون سے ايام طہر کے سمجھے جائیں گے ؟ لیکن یہ ملحوظ رہے کہ ہر دفعہ بلیڈنگ رکنے کے بعد بھی زردی مائل ہی لیکوریا رہتا ہے گو درمیان میں کبھی خالص سفید رنگ کی رطوبت دکھلائی دے بھی دے۔وضاحت فرما دیجئے۔اللہ آپکو جزاء خیر عطا فرمائے ۔آمین ۔
واضح ہو کہ حیض کی کم از کم مدت تین (3) دن اور تین (3) راتیں، جبکہ زیادہ سے زیادہ مدت دس (10) دن اور دس (10) راتیں ہے، اسی طرح دو ماہواریوں کے درمیان کم از کم پندرہ دن پاکی کا ہونا بھی ضروری ہے، لہذا سوال میں مذکور ہ خاتون کی ماہواری کے ایام اگر متعین نہ ہوں، بلکہ کم و بیش ہو رہے ہوں (جیسا کہ سوال میں درج تفصیل سے معلوم ہو رہا ہے) تو وہ اس میں ماہواری آنے کے بعد جب خالص سفیدی دیکھ لیں، تو اس کے بعد اپنے آپ کو پاک شمار کر کے نماز اور دیگر احکام کی پابندی کا اہتمام کریں، اور اس کے بعد اگلی مرتبہ خون دیکھنے کی صورت میں دونوں ماہواریوں کے درمیان کم از کم پندرہ دن کی پاکی شمار کر کے اس کے بعد حسب عادت ماہواری کے ایام شمار کرے، تا ہم اگر خون دس دنوں سے بڑھ جائے تو دس دن کے بعد کا خون استحاضہ کا شمار ہوگا اور اس میں نماز روزہ وغیرہ احکام متاثر نہ ہونگے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: (ومنها) خروج الدم إلى الفرج الخارج ولو بسقوط الكرسف فما دام بعض الكرسف حائلًا بين الدم و الفرج الخارج لايكون حيضًا،هكذا في المحيط الخ(الفصل الاول فی الحیض،ج:1، ص:36، ط: رشیدیہ)۔
وفی البحرالرائق: قال الأزهري: الاستحاضة سيلان الدم في غير أوقاته المعتادة الخ (كتاب الطهارة، باب الحيض،ج:1، ص:220، ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
وفیہ ایضاً: (ولو زاد الدم على أكثر الحيض والنفاس فما زاد على عادتها استحاضة)؛ لأن ما رأته في أيامها حيض بيقين وما زاد على العشرة استحاضة بيقين وما بين ذلك متردد بين أن يلحق بما قبله فيكون حيضًا فلاتصلي وبين أن يلحق بما بعده فيكون استحاضةً فتصلي فلاتترك الصلاة بالشك فيلزمها قضاء ما تركت من الصلاة الخ(كتاب الطهارة، باب الحيض،ج:1، ص:223، ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
وفی الهداية: و لو زاد الدم على عشرة أيام و لها عادة معروفة دونها ردت إلى أيام عادتها و الذي زاد استحاضة " لقوله عليه الصلاة و السلام " المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها " و لأن الزائد على العادة يجانس ما زاد على العشرة فيلحق به الخ(کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج:1، ص: 34، ط:قدیمی)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0لیکوریا کی مریض عورت کی رطوبت نیز خیالاتِ فاسدہ سے نکلنے والی رطوبت کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1