استفتاء برائے فتوی
بخدمت محترم مفتیان کرام و علمائے دین متین
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
ہم چند مسلمان آپ کے سامنے ایک نہایت اہم، حساست اور خطرناک دینی و فکری معاملہ میں رہنمائی کے لیے رجوع کر رہے ہیں، تاکہ ہم پر حق واضح ہو اور اس فتنہ سے اپنی اور دوسروں کی حفاظت کر سکیں۔
سوال (استفتاء ) :
ہمارے علاقے سوشل میڈیا پر ایک شخص درس قرآن کے نام پر یوٹیوب، فیسبوک، اور ٹکٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر اپنے بیانات کے ذریعے درج ذیل عقائد و نظریات اور افکار پھیلا رہا ہے :
عقائد و افکار کا خلاصہ :
1. قرآن کریم کی اپنی من مانی، گمراہ کن اور عربی گرامر کے اعتبار سے سراسر غلط تفسیر کرتا ہے، جبکہ نہ اس کے پاس علم ہے، نہ کسی عالم یا ادارے سے سند۔
2. دعوی کرتا ہے کہ 1400 سال میں صرف اس نے قرآن کو سمجھا ہے، امت کے تمام علماء قرآن کو نہیں سمجھ سکے۔
3. تمام علمائے کرام، ائمہ اربعہ اکابرین امت اور مدارس دینیہ کی توہین کرتا ہے، انہیں فرقہ پرست، مشرک، اور حرام خور کہتا ہے۔
4. احادیث مبارکہ کا انکار اور مذاق اڑاتا ہے، مثلاً نظر بد، یوم عرفہ کے روزے، دعاؤں کی فضیلت، حافظ قرآن کی شفاعت، تکبیر اولیٰ، اوراد و وظائف وغیرہ۔
5. ختم نبوت کی اجماعی تشریح کا انکار کرتا ہے۔
6 نماز، روزہ، زکوۃ جیسے ارکان دین کا مذاق کا مذاق اڑاتا ہے ان کی فرضیت کا انکار کرتا ہے۔
7. دعوی کرتا ہے کہ نماز اللہ کا حکم نہیں ہے (ویڈیو موجود ہے)۔
8. زکوة کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مال جمع کرنا ہی حرام ہے تو زکوۃ کہاں سے آئی۔
9. دعاء کو غیر شرعی قرار دیتا ہے، ویڈیوز میں مذاق اُڑاتا ہے۔
10. نبی کریم اللہ السلام کی صفت "النبی الامی" کی توہین کرتا ہے۔ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے
جو گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں (ویڈیو ریکارڈ موجود ہے)۔
11. قرآن کریم کی آیات میں سے ایک کی تفسیر کے ذریعے دوسری آیات کا انکار کرتا ہے۔
12. کہتا ہے کہ کافر بھی جنت میں جائیں گے، صرف مسلمان نہیں۔
13. نزول عیسی علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام، خروج دجال، عذاب قبر، تقدیر، رجم کی سزا ان تمام عقائد کا انکار کرتا ہے۔
14. کلمہ طیبہ کے دوسرے حصے "محمد رسول اللہ " کو دین میں داخل نہیں مانتا بلکہ علماء کی اختراع کہتا ہے۔
15. چودہ سو ساله علمی و تفسیری روایت کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جو تفسیر میں کرتا ہوں آج تک کسی عالم نے نہیں کی۔
16. روزہ کو مغرب کے بجائے عشاء تک قرار دیتا ہے۔
17. اپنے 350 افراد تیار کرنے اور ریاستی نظام بدلنے، قصاص و حدود نافذ کرنے کا دعوی کرتا ہے۔
یہ تمام باتیں اس کی اپنی زبانی ریکارڈ ویڈیوز میں موجود ہیں، جن کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ سوال میں ہے :
کیا ایسا شخص، جو درج بالا عقائد و اقوال کا قائل ہو، شریعت کی رو سے گمراہ، بدعتی، فاسق، یا دائرہ اسلام سے خارج (مرتد ) شمار ہوگا؟
اس کے اقوال و افکار کو پھیلانا یا سننا شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟
اس شخص کے خلاف شرعی اور قانونی کارروائی کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے؟ اور کیا ایسے شخص کو روکنا اور لوگوں کو اس سے خبردار کرنا عوام اور علمائے کرام کی شرعی ذمہ داری ہے؟
ہماری گزارش:
ہم آپ سے مودبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اس شخص کے اقوال و نظریات کا شرعی حکم مدلل و واضح انداز میں عنایت فرمائیں، تاکہ ہم اہل ایمان اس فتنہ سے بچ سکیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور حق کے لیے رہنمائی عطا فرمائے۔
آمین۔ والسلام
صورتِ مسئولہ میں مذکورشخص كي طرف سوال ميں منسوب متعدد باتیں (مثلاً نماز و زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار، ختمِ نبوت کے اجماعی مفہوم کا انکار، احادیثِ صحیحہ کا استہزاء، شعائرِ اسلام کا مذاق وغيره )ایسی ہیں جو ضروریاتِ دین، قطعی نصوصِ قرآن و سنت، اجماعِ امت اور متواتر اسلامی عقائد کے صریح انکار پر مشتمل هونے كي وجه سے دائرہ اسلام سے خروج کاسبب ہے ۔نیزریاستی نظام کے مقابلے میں اپنی جماعت تیارکرکے ملکی قوانین کواپنے ہاتھ میں لیناآئین اورقانو ن کے خلاف بغاوت کے زمرے میں آتاہے ۔
لہٰذا ایسے شخص کے اقوال و نظریات سے عوام کوخبرداركركے اس فتنه سے بچاناشرعاّلازم اور ضروری هے۔ اسی طرح اس کے بیانات سننا، آگے پھیلانا، یا اس کی تشہیر کرنا بھی جائز نہیں ۔البتہ ایسے شخص کے خلاف کفرکافتوی حاصل کرکےخودکوئی اقدام کرنے کی بجائے ملکی قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لانی چاہیے تاکہ اس فتنہ کاسدباب ہوسکے ۔
کما في الدر المختار: والكفر لغة: الستر. وشرعا: تكذيبه - صلى الله عليه وسلم - في شيء مما جاء به من الدين ضرورة(4/ 223)
وفي التتارخانیة:اذا أنکر آیة من القرآن أو سخر بآیة من القرآن:و فی الخزانة:أو عاب فقدکفر''…(335/3)
وفي «الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» : ومن أنكر المتواتر فقد كفر، ومن أنكر المشهور يكفر عند البعض(2/ 265)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1