شیئرز کا کاروبار

شئیرز کے کاروبار میں انٹرا ڈے ٹریڈنگ کا حکم

فتوی نمبر :
85961
| تاریخ :
2025-09-08
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / شیئرز کا کاروبار

شئیرز کے کاروبار میں انٹرا ڈے ٹریڈنگ کا حکم

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!میرا سوال یہ ہے کہ آج کل اسٹاک مارکیٹ میں انٹرا ڈے ٹریڈنگ (Intraday Trading) کا رواج ہے،اس میں جب کوئی شخص حصص (Shares) خرید لیتا ہے تو وہ اسی دن انہیں بیچ بھی سکتا ہے, پاکستان میں CDC سسٹم کے تحت حصص کی ملکیت کی منتقلی دو دن بعد ہوتی ہے، لیکن خریدار کو خریداری کے فوراً بعد یہ سہولت حاصل ہوجاتی ہے کہ وہ ان حصص کو آگے فروخت کرسکے یعنی خریداری مکمل ہوتے ہی خریدار کے پاس یہ اختیار نہیں رہتا کہ وہ لین دین کو منسوخ یا تبدیل کرے، بلکہ حصص اس کے کھاتے میں لاک ہوجاتے ہیں اور وہ آگے بیچنے کا حق رکھتا ہے۔


میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً حصص کی ایسی خریدوفروخت قابض ہونے کے حکم میں شمار ہوگی؟


کیا انٹرا ڈے ٹریڈنگ (یعنی خریدنے کے بعد اسی دن بیچ دینا) شرعی اعتبار سے جائز اور حلال ہے؟براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شیئرز کی خریداری کے بعد آگے فروخت کرنے کیلئے شرعاً اس کا قبضہ حاصل کرنا لازم و ضروری ہے، بصورتِ دیگر قبضہ کے حصول سے پہلے اس کا آگے بیچنا شرعاً جائز نہیں، جبکہ ہر چیز کا قبضہ اس چیز کی نوعیت کے لحاظ سے عرفاً مختلف ہوتا ہے،اور شیئرز کے متعلق اسٹاک ایکسچینج کے قواعد و ضوابط اورعرف یہ ہےکہ سودے کے بعد محض اسٹاک ایکسچینج کے سسٹم ”KATS یا NTS“ میں فوری اندراج کو قبضہ نہیں کہا جاسکتا،بلکہ اس کا مطلب صرف اس ٹرانزیکشن کی ڈیل کی تیاری ہوتی ہے، جبکہ شیئرز کے خریدار کاقبضہ’’ڈیلیوری“ملنےکو قرار دیا جاتاہےاور ’’ڈیلیوری‘‘عموماًدو کاروباری دنوں(T+2) کے بعد ہو تی ہے، چنانچہ شیئرز کی خریداری کے بعد محض کھاتہ میں لاک ہوجانے یا خریدار کو اس لین دین کے منسوخ یا تبدیل کرنے کی اجازت حاصل نہ ہونے کو قبضہ شرعیہ نہیں کہاجاسکتا،لہذا جب تک شیئرزکی ڈیلیوری (Delivery) نہیں ملتی،تب تک ان شیئرز کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار، حتى لو كان علوا أو على شط نهر ونحوه كان كمنقول ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة ‌و (‌بيع ‌منقول) قبل قبضه ولو من بائعه كما سيجيء إلخ(باب المرابحۃ والتولیۃ، ج: 5، ص: 147، ط: سعید)۔
وفی الھدایۃ: "ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه"
لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك“ إلخ(باب المرابحۃ والتولیۃ، ج: 3، ص: 59، ط: دار احیاء التراث)۔
وفی فقہ البیوع علی المذاھب الأربعۃ: المسئلۃ الثالثۃ: أن الذی یجری علیہ العمل فی سوق الأسھم التقلیدیۃ أن المشتری بعد عقد شراء الأسھم، ربما یبیع الأسھم المشتراۃ إلی شخص ثالث قبل موعد التسلیم (Delivery) فھل یعتبر ذلک بیعاً قبل القبض، فلایجوز؟ فربما یظن أنہ لیس بیعاً قبل القبض، لأن معنی القبض أن تنتقل إلی المشتری حقوق المبیع والتزاماتہ، وأن یدخل المبیع فی ضمانہ، وإن کل ذلک یحصل بمجرد عقد البیع الأول، حیث یسجل ھذا البیع فی الکمبیوتر، کما اعترف بہ أصحاب البورصۃ (إلی قولہ) ولکن الحقیقۃ، کما یظھر بالتأمل فی ضوابط البورصۃ، أن الذی ینتقل إلی المشتری عند العقد ھو ملک الأسھم فقط، أما القبض، فإنہ لایحصل إلا عند موعد التسلیم، ویدل علی ذلک دلائل آتیۃ:
(1)قبض کل شیئ یکون بحسبہ فی عرف ذلک الشیئ، کما تقرر فی الفقہ، وإن عرف البورصۃ والمتعاملین فیھا أنھم لایعتبرون الأسھم مسلّمۃ إلی المشتری إلا عند التسلیم الفعلی الذی یقع فی موعدہ، ویسمونھا تسلیماً (Delivery) وإن ھذا الاصطلاح فیہ تصریح بأن المشتری إنما یتسلم الأسھم عند ذلک، لا قبلہ، والتسلم ھو القبض إلخ(المبحث الثالث فی أحکام المبیع والثمن وما یشترط فیھما إلخ، بیع أسھم الشرکات، ج: 1، ص: 385۔386، ط: مکتبۃ معارف القرآن)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85961کی تصدیق کریں
0     347
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فیوچر ٹریڈنگ (مستقبل کے سودوں)کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کیا شئیر کے خرید وفروخت میں سود کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے ؟

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شئیرز ملکیت میں آنےسے پہلے فروخت کرنا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 1
  • کمپنیوں کے شیئرز اور مالِ حرام کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شئیر ز کے کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 1
  • شئیرز سے کمائے ہوئے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • بروکر کے لئےشیئرز کی خرید و فروخت کی پیشکش کرنا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کا کاروبار اور اس سے ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شیئرز کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 3
  • شیئرز (حصص)کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • بینک اور دیگر کمپنیوں کے شیئرز خریدنا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی خریدوفروخت اور کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ سے شیئرز کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کسی کمپنی کے شیئرز خریدنے کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے شیئرز کی خرید وفروخت کاحکم اور اس کی شرائط

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 1
  • حلال مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی کے شیئرز خریدنے کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شیئرز کی خرید و فروخت میں (اسٹاک بروکر) کو استعمال کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں ’’مری بریوزی‘‘ کے شیئرز کا کاروبار کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شیئرز کی خرید و فروخت سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شئیرز کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کسی کمپنی کے شیئرز خریدنے کے متعلق تفصیلی فتوی

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
Related Topics متعلقه موضوعات