23 ستمبر صبح پونے سات بجے مہواری شروع ہوئی اور 27 تاریخ شام 4 بجے رک گئی ۔ 19 اکتوبر صبح 10بجے مہواری شروع ہوئی اور 24 تاریخ کو رات 10 بجےرک گئی ۔ 13 نومبر کو شام 5 بجے مہواری شروع ہوئی اور 18 تاریخ کو رات 8 بجے رک گئی ۔ 13 دسمبر دوپہر 12.30 بجے مہواری شروع ہوئی اور 18تاریخ کو شام 6 بجے رکی۔ 6 جنوری رات 9.30بجے شروع ہوئی اور 12 جنوری کو دوپہر 12 بجے رکی۔ پھر اسکے بعد 23جنوری کو بچہ دانی کی صفائی کروائی ایک دانے کو ختم کرنے کے لیے ۔ جس کے بعد خون آتا رہا مستقل۔اسکا مسئلہ معلوم کرکے 31 جنوری دوپہر 3.30 سے حیض شمار کیا ۔ 7 فروری شام 7:15 بجے تک خون رک گیا۔ پھر 26 فروری کو دوپہر دو بجے دھبہ آ یا خون کا۔پھر نہیں آ یا کچھ ۔28فروری صبح 6.30 بجے دیکھا تو صحیح سے خون جاری ہوچکا تھا ۔ جو ابھی جاری ہے۔اسی ماہ علاج کی غرض سے ایک دوا کھائی تھی ۔ ڈاکٹر نے26 تاریخ کو کہا کہ چار سے پانچ دن میں کھل کر ہو جائے گا حیض
سوال كاجواب سمجھنے سے پہلے بطورتمہید چنداصولی ہدایات سمجھناضروری ہےوہ یہ ہے کہ شرعی اعتبارسے کم سے کم حیض کی مدت3دن (72 گھنٹے)اورزیادہ سے زیادہ حیض کی مدت10 دن (240 گھنٹے)، حیض کے دنوں کے درمیان پاکی (طُہر) کی کم سے کم مدت15 دن، اگر خون 10 دن سے بڑھ جائے یا 15دن سے پہلے دوبارہ آ جائے تو زائد خون کو استحاضہ (بیماری کا خون) شمار کیا جائے گا۔
لہذاسوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کے تمام حیض 4 سے 7 دن کے درمیان آئے ہیں، اوران کے درمیان پندرہ دنوں کاطہربھی پایاگیاہےجو بالکل صحیح اور شرعی حیض شمارہونگے۔جبکہ26فروری کو نظرآنے والادھبہ بشمول 28فروری سے شروع ہوا خون سب حیض شمار ہوگا، کیونکہ 26فروی تک 15 دن کی طہارت پوری ہوچکی تھی ،لہذا،اس کے دھبہ نظرآنےاورخون جاری ہونےکےدرمیانی دودن بھی حیض شمارہونگے ،اوراس حالت میں سائلہ کی عادت کےاکثر(تقریبا7) دن حیض شمارہونگے ،جس میں نماز،روزہ چھوڑدے گی ،اس کے بعدباقی ایام استحاضہ(بیماری) شمارہونگے،استحاضہ کے دنوں میں معمول کے مطابق ہرنمازکےوقت تازہ وضوکرکے نماز پڑھتی رہےگی۔
کمافی مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح :وأقل الطهر الفاصل بين الحيضتين خمسة عشر يوما" لقوله صلى الله عليه وسلم: "أقل الحيض ثلاثة وأكثره عشرة وأقل ما بين الحيضتين خمسة عشر يوما ""ولا حد لأكثره" لأنه قد يمتد أكثر من سنة " (ص61)
و فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية :إذا كان الطهر خمسة عشر يوما أو أكثر يعتبر فاصلا فيجعل كل واحد من الدمين أو أحدهما بانفراده حيضا حسب ما أمكن من ذلك هكذا في المحيط (1/ 37)
وأقل الطهر خمسة عشر يوما ولا غاية لأكثره إلا إذا احتيج إلى نصب العادة كما إذا بلغت مستمرة الدم فيقدر حيضها بعشرة أيام من كل شهر وباقيه طهر. هكذا في الهداية
وفیھاایضا:(ودم الاستحاضة) كالرعاف الدائم لا يمنع الصلاة ولا الصوم ولا الوطء. كذا في الهداية. (1/ 39)
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0