میرا سوال یہ ہے کہ میں نے دبئی اسلامک بینک (Dubai Islamic Bank) کے ساتھ ایک مضاربہ معاہدہ (Mudaraba Agreement) کرنا چاہتا ہوں ، جس کے تحت میں سرمایہ جمع کروا کر بینک کی طرف سے نفع میں شراکت دار بن سکوں۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ شرعی طور پر جائز ہے؟کیا دبئی اسلامک بینک کا یہ طریقہ صحیح مضاربہ کہلا سکتا ہے؟اس سے حاصل شدہ منافع حلال ہے یا نہیں؟نقصان کی صورت میں ذمہ داری(بینک کی ہونی چاہیے یا صرف سرمایہ دار کی یا دونوں کی)۔مہربانی فرما کر شرعی راہ نمائی عطا فرمائیں،اور کیا جو وڈیو چل رہی ہے کہ دعوت اسلامی نے دبئی اسلامی بینک کہ ساتھ مضاربہ کہ حوالے سے کوئی معاہدہ کیا ہے۔
ہماری معلومات کےمطابق دبئی اسلامک بینک ایک فل خلیج اسلامی بینک ہے، جس کے معاملات مستند علماء و مفتیانِ کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو دبئی اسلامی بینک کی شرعی نگرانی کرنے والے علماء ومفتیانِ کرام حضرات کی رائے پر اعتماد ہو، تو شرعاً سائل کیلئے دبئی اسلامک بینک کے ساتھ کوئی بھی معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے۔