"K Trader" جیسی ایپس کے ذریعے آن لائن اسٹاک خریدنا حلال ہے یا نہیں ؟
سائل نے ”K Trader“ایپ کے ذریعہ آن لائن اسٹاک خریدنے کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیل بیان نہیں کی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اسٹاک مارکیٹ سے شیئرز/اسٹاک کی خرید و فروخت درجِ ذیل چار شرطوں کے ساتھ جائز ہے۔
1:۔جس کمپنی کے شیئرز خریدے جا رہے ہیں، وہ کمپنی کسی حرام کا روبار میں ملوث نہ ہو
2:۔اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں ( Liquid Assets) یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے (Fixed Assets ) حاصل کر لیے ہوں، مثلاً بلڈنگ بنائی ہو یا زمین خریدی ہو ۔
3:۔اگر کمپنی کا بنیادی کاروبار تو حلال ہو، مگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہو تو اس صورت میں اس کی سالانہ میٹنگ میں سودی لین دین کے خلاف آواز اٹھائی جائے ۔
4:۔چوتھی شرط جو حقیقت میں تیسری شرط کا حصہ ہے، وہ یہ کہ جب منافع تقسیم ( Dividend ) ہو تو وہ شخص انکم اسٹیٹمینٹ (income statement) کے ذریعہ معلوم کرے کہ آمدن کا کتنا فیصد حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہے، پھر جتنا فیصد حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو صدقہ کر دے ۔ لہذا مذکورہ بالا تمام شرائط کی مکمل پابندی کے ساتھ اگرمذکورہ ایپ سمیت کسی مستند اور قانونی طور پر رجسٹرڈ ایپ کے ذریعہ آن لائن شیئرز خریدے جائیں تو اس طرح کے شئیرز خریدنا درست اور اس سے حاصل شدہ نفع بھی حلال ہوگا ۔
كما فى الهداية : ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لانه نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك إلخ(باب المرابحۃوالتولیۃ،ج:3،ص:59،ط:داراحیاءالتراث)۔
في الدر المختار: (ولا يجوز بيعها) لحديث مسلم «إن الذي حرم شربها حرم بيعها إلخ(کتاب الأشربۃ، ج: 6، ص: 449، ط: سعید)۔
و في البحر البحر الرائق: قوله ( فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض ) أي النقدان بأن بيع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوي وزنا ومن قبض البدلين قبل الافتراق إلخ(کتاب الصرف،ج:6،ص:209،ط:دارالکتاب الإسلامی)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وتصدق إلخ) أصله أن الغلة للغاصب عندنا؛ لأن المنافع لا تتقوم (إلی قوله) ويؤمر أن يتصدق بها لاستفادتها ببدل خبيث وهو التصرف في مال الغير إلخ(کتاب الغصب، ج: 6، ص: 189، ط: سعید)۔