گزارش خدمت یہ ہے کہ cash Deposit رکھنے کے متعلق میں بہت الجھن کا شکار ہوں لہذا مندرجہ ذیل امور کے بارے میں جواب عنایت فرمائیں تاکہ میں اپنا لائحہ عمل اختیار کرسکوں ،
1۔ قومی بچت کے مرکز حکومت پاکستان میں جو Deposit رکھا جاتا ہے اس پر profit کا مہر لگا کر وہ لوگ Deposit certificats دیتے ہیں اس پر جو رقم Deposit رکھنے والے کو ہر ماہ یا مقرر ہ مدت پر ملتی ہے وہ جائز ہے یا نہیں ؟
2۔ بنکو ں کے اسلامی برانچوں میں جو Deposit رکھا جا تا ہے اس پر جو رقم مقررہ مدت پر ملتی ہے وہ جائز ہے یا نہیں ؟
3۔ الازہر یونیورسٹی مصر نے جو bank deposit کے بارے میں جو فتوی دیا ہے اس کی حیثیت کیا ہے ؟
واضح ہوکہ کسی بھی معاملہ اور کاروبار کے جواز اور عدم جواز کا تعلق اس معاملہ اور کاروبار کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے لہذا جو معاملہ شرعی ضابطوں کے مطابق ہو تو وہ معاملہ شرعاً بھی جائز اور اس پر ملنے والے منافع حلال ہوں گے ورنہ نہیں۔
کمافی بحوث فی قضایا: فثبت بھذا ان الودائع المصرفیۃ فی البنوک التقلیدیۃ بانواعھا الثلاثۃ کلھا قروض یقدمھا اصحاب الاموال الی البنک فتجری علیھا جمیع احکام القرض (355/1)
وفی الشامیۃ:(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (166/5)
وفی بحوث: وبعد وضوح حقیقۃ ھذہ الودائع وثبوت کونھا قروضاً ننتقل الی السوال الثانی وھو ھل یجوز للمسلمین ان یودعوا اموالھم فی البنوک التقلیدیۃ التی تعمل فی اطار ربوی ؟
اماالودیعۃ الثابتۃ وودائع التوفیر فان البنک یدفع فائدۃ مضمونۃ لاصحابھا وبما ان ھذہ الوادائع قروض بلاخلاف فما تدفعہ البنوک زیادۃ علی راس المال فانہ رباً صراح لاسبیل الی جوازہ (356/1)