کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
زید نے عمر و پر اپنی ایک زمین نوئے (۹۰) لاکھ روپے میں فروخت کی , جس میں سے ساٹھ لاکھ روپے عمرو نے زید کو ادا کر دیے ،اور بقایا تیس لاکھ روپے کی ادائیگی کسی اور وقت میں طے پائی، اور زید نے مذکور زمین پر عمرو کو قبضہ دے دیا ،اور اس کے کا غذات بقیہ تیس لاکھ کی ادائیگی تک اپنے پاس روک لیے، اس کے بعد زید نے یہی زمین ایک دوسرے شخص بکر کو فروخت کر دی ،اور اس کے کاغذات اسکے حوالہ کر دیے, عمرو کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے بکر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا اور اب جانبین سے کیس چل رہا ہے ،اب عمرو یہ کہتا ہے کہ اگر میں یہ کیس جیت گیا تو میں یہ زمین کسی دوسرے کے پاس بطورِ امانت رکھواؤں گا، اور بعد میں مدرسہ والوں کو زکوۃ کی رقم دوں گا جو زمین کی مالیت کے برابر ہو گی ،اور ان سے کہوں گا کہ آپ میری زمین اس زکوة کی رقم کے عوض خرید لیں، اس طرح زکوۃ کی رقم دوبارہ میری ملکیت میں آجائے گی، پوچھنا یہ ہے کہ عمرو کا اس طرح کرنا درست ہے ،اور اگر نہیں تو اس کا کوئی جائز حل تحریر فرما لیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب خرید و فروخت کا معاملہ شرعاً پورا ہو چکا تو اس کے بعد مسمیٰ زید کا مذکور زمین کسی دوسرے پر بیچنا جائز نہیں ، بلکہ یہ بیع شرعاً مسمی عمرو کی اجازت پر موقوف ہے ،اور پھر عمرو کا بکر کے خلاف کیس کرنا بھی درست نہیں ،اسے چاہیئے کہ وہ مسمی زید کو اپنا مد علی علیہ بنائے ،اور بلا وجہ کی حیلہ سازی سے احتراز کرے ۔
في الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته اھ (6/ 200) -
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0