السلام علیکم ! جی میں ہندوستان مہاراشٹر سے ہوں اور میرا سوال یہ ہے کہ میں یہاں شئیر مارکیٹ میں کاروبار کرتا ہوں تو مُجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہاں جو tv چینل یا نیوز چینل شئیر مارکیٹ میں list ہے تو کیا ہم اُس tv نیوز چینل کی کمپنی کے شیئرز کو خرید سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو رہبری کیجئے۔
واضح ہوکہ کسی کمپنی کے شئیرز خریدنا دراصل ان شئیرز کے زریعے بطورپاٹنراس کمپنی میں شریک ہوکر نفع ونقصان کا مالک بننا ہوتاہے،تو جس طرح براہ ِ راست حرام کا کاروبار میں شرکت جائز نہیں،اسی طرح شئیرز کے واسطے سے بھی حرام کاروبار میں شریک ہوناجائز نہیں،جبکہ ٹی وی چینل کی آمدنی کا بڑا حصہ حرام امور(فحاشی،عریانی،موسیقی،ناجائزمخلوط پروگرام ،ناچ گانا،ڈرامے،فلمیں،جھوٹ،بہتان یا اسلام ومسلمانوں کے خلاف مواد)پر مشتمل ہوتاہے،لہذا ٹی وی چینل کے شئیر خریدنا جائز نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: ولا تعاوَنوا على الْإثم والعدوان (سورۃ المائدۃ آیت نمبر 2)۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى ﴿ ولا تعاوَنوا على الْإثم والعدوان ﴾ نھى عن معاونة غيرنا على معاصى اللّه تعالى اھ الخ (سورۃ المائدۃ، ج: 3، ص: 296، ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)۔
وفی الدر المختار: (لا تصح الإجارۃ لعسب التیس) و ھو نزوہ علی الإناث (و) لا (لأجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملاھی) الخ
وفی رد المحتار تحت: (قولہ لا تصح الإجارۃ لعسب التیس) لأنہ عمل لا یقدر علیہ و ھو الإحبال (قولہ مثل الغناء) بالکسر والمدالصوت وأما المقصور فھو الیسار صحاح (قولہ و النوح ) البکاء علی المیت و تعدید محاسنہ (قولہ والملاھی ) کالمزامیر والطبل و إذا کان الطبل لغیر اللھو فلا بأس بہ کطبل الغزاۃ و العرس لما فی الأجناس و لا بأس أن یکون لیلۃ العرس دف یضرب بہ لیعلن بہ النکاح وفی الولوالجیۃ: وإن کان للغزو أو القافلۃ یجوز إتقانی ملخصا (قولہ یباح ) کذا فی المحیط: و فی المنتقی: امرأۃ نائحۃ أو صاحبۃ الطبل أو زمر اکتسبت مالا ردتہ علی أربابہ إن علموا و الإ تتصدق بہ،و إن من غیر شرط فھو لھا: قال الإمام الأستاذ لا یطیب، والمعروف کا لمشروط اھ قلت: وھذا مما یتعین الأخذ بہ فی زماننا لعلمھم أنھم لا یذھبون إلا بأجر البتۃ ط: الخ (کتاب الإجارۃ، ج: 6، ص: 55، ط: ایچ ایم سعید)۔
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0