میں کینیڈا میں مکان خریدنا چاہتا ہوں، یہاں کینیڈا میں دو تین ادارے ہیں ،جو اسلامی ہیں، اور ربا کے بغیر قرض فراہم کرتے ہیں، یہ تقی عثمانی صاحب کے فتوے پر عمل کرتے ہیں، گویا کہ وہ ان اداروں کا حصہ نہیں ہیں۔ سوالات:
۱: کیا واقعی وہ ربا کے بغیر قرض فراہم کرتے ہیں؟ تفصیل کے لیے ایک ویب سائٹ (www.umfinancial.com) پر دیکھیں ،اگر یہ ممکن نہیں ہے ،تو میں تفصیل بیان کرتا ہوں،ہم چھ اشخاص ہیں، جس میں میری بیوی، والدہ، میں اور میری تین بیٹیاں، جبکہ عمر میں ۴، ۵، اور۶ سال ہیں،میری بیوی کا بچہ ہونا ہے، ہم مستقبل میں ساتھ ہو جائینگے، اس وقت ہم دوسونے کمروں کے فلیٹ میں رہتے ہیں،ایک کمرہ والدہ کے استعمال میں اور درسرے میں ہم سب مل کر رہتے ہیں، ہمیں اصل میں تو تین سے چار کمرے والا فلیٹ لینا چاہیئے ، لیکن میری تنخواہ اتنی نہیں ہے کہ میں یہ برداشت کروں، میرے گھر والوں یا دوستوں میں کوئی ایسا نہیں ہے ،جو ہزاروں ڈالر ۱۵ سے ۲۰ سال کے لئے ادھار پر دیدے، اگر مذکورہ بالا ادارے درست ہیں ،تو میرا مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟ اگر یہ ادارے درست نہیں ہیں ،تو کیا میں کسی بھی بینک سے قرض لے سکتا ہوں ؟کیونکہ بینک کا سود ان اداروں سے کم ہے، دیگر صورت میں میرے مسئلے کا کیا حل ہے؟
۲۔ میری بیٹیاں ہم میاں بیوی کے سونے کے کمرے میں سوتی رہینگی۔
۱:مذکور اداروں کے طریقہ کی مکمل تفصیل تو ہمیں معلوم نہیں، البتہ سائل کے لئے جائز طریقہ پر مکان خریدنے کی صورت ہو سکتی ہے کہ وہ کسی بھی مناسب علاقہ میں اپنی پسند کا مکان دیکھ لے ،اور پھر متعلقہ اداروں میں سے کسی بھی ایک سے اس طرح معاملہ کرے کہ وہ ادارہ مذکور مکان خرید کر اس پر مالکانہ قبضہ کرے، اور اس کے بعد وہ مناسب نفع کے ساتھ ایک مخصوص مدت تک قسطوں پر سائل پر بیچ دے، اس طرح کہ کل قسطیں بیان کر دی جائیں۔ ہر قسط کی رقم طے کی جائے، اور یہ کہ کسی قسط کےمؤخر ہونے پر مزید کچھ چارجز بھی نہ لیے جائیں۔
چنانچہ اس طرح کرنے سے نہ تو سائل پر کثیر رقم کا بوجھ ہوگا ،اور وہ اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن جائےگا۔ اور پھر یہ خریداری شرعاً بھی جائز طریقہ پر ہوگی ،اور اس میں نقد کے مقابلے میں ادھار کی وجہ سے جو قیمت میں اضافہ ہوگا، وہ شرعاً سود بھی نہیں۔
۲: جبکہ بچے جب سمجھدار اور ہوشیار (تقریباً نو، دس سال کی عمر کے) ہو جائیں، یا والدین کو ان کی ہوشیاری کا علم ہو جائے ،تو ان کا بستر الگ کر دینا چاہیئے ۔
ففی الدر المختار: وإذا بلغ الصبي أو الصبية عشر سنين يجب التفريق بينهما بين أخيه وأخته وأمه وأبيه في المضجع لقوله - عليه الصلاة والسلام - «وفرقوا بينهم في المضاجع وهم أبناء عشر» اھ (6/ 382) ۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0