السلام علیکم! میں غیر مسلم ممالک میں گھر خریدنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں اگر ہم کوئی گھر خریدنا چاہتے ہیں تو بینک کو شامل کیے بغیر نہیں خرید سکتے کیونکہ بینک سود لیتا ہے اور جہاں تک میں جانتا ہوں کہ سود دینے والا اور سود لینے والے پر اللہ تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے، براہِ مہربانی مجھے اس مسئلہ کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کریں کیونکہ غیر مسلم ممالک میں بعض مسلم علماء کا دعویٰ ہے کہ ذاتی استعمال کے لیے ایک گھر خریدنا قابل قبول ہے اور میں اس کی تہہ تک پہنچے بغیر کچھ نہیں کرنا چاہتا، میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ زیادہ تر ممالک میں جائیداد بہت مہنگی ہے اس لیے کرایہ پر مکان حاصل کرنے کے مقابلے میں رہن دینا زیادہ مہنگا ہے۔
صورت مسئولہ میں مورگیج کے ذریعہ ، حصولِ مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو یہ بلا شبہ نا جائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کر لے اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعہ قسطوں پر یہ مکان سائل پر فروخت کر دے اور اسی طرح قسطوں کے معاملے میں ابتدأً ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اورقسطوں کا معاملہ ہوگا ، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی اور کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر کوئی چار جز بھی وصول نہ کئے جائینگے اور جو سود کی رقم ادارہ لینا چاھتا ہے اس کو قیمت کا حصہ شمار کیا جائے تو اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز ہوگا اور اس طرح شرعی شرائط کو ملحوظ رکھ کر معاملہ کرنے سے ہر شخص اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے ۔
قال اللہ تعالی: وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الْرِبٰوا الآیۃ ( آیتـ275 سورۃ البقرۃ)
و فی الدر المختار: ( و صح بثمن حال) و ھو الأصل (ومؤجل إلی معلوم) لئلا یفضی إلی النزاع ولو باع مؤجلا صرف شھر بہ یفتی الخ اھ
و فی رد المحتار: تحت ( قولہ لئلا یفضی إلی النزاع) تعلیل الاشتراط کو الأجل معلوم (إلی قولہ) و منھا اشتراط أن یعطیہ الثمن علی التفاریق أو کل اسبوع البعض، فإن لم یشترط فی البیع بل ذکر بعدہ لم یفسد ، و کان لہ أخذ الکل جملۃ و تمامہ فی البحر الخ (کتاب البیوع مطلب فی التأجیل الخ ج 4 صـ 531 ط: سعید)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0